حکومت نے مالی سال 2026-27 کے فنانس بل میں دی جانے والی ٹیکس رعایتیں کے درست اعداد و شمار عوام کے سامنے لانے سے انکار کردیا۔
حکام کے مطابق بجٹ اقدامات کو حتمی شکل دینے کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ اس لیے تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔
آئی ایم ایف مذاکرات اور ٹیکس رعایتیں
حکومت کا کہنا ہے کہ ٹیکس رعایتیں ابھی حتمی مرحلے میں ہیں۔
اسی وجہ سے تمام اعداد و شمار کو فی الحال خفیہ رکھا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پالیسی پر آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد ہی تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
ٹیکس رعایتیں اور مالی بوجھ کا تخمینہ
رپورٹس کے مطابق مختلف شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس رعایتیں میں تنخواہ دار طبقہ، برآمدکنندگان اور رئیل اسٹیٹ شامل ہیں۔
ان اقدامات کے نتیجے میں قومی خزانے پر تقریباً 360 ارب روپے کا بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
فنانس بل اور ٹیکس رعایتوں پر بحث
مالی ماہرین کے مطابق ٹیکس رعایتیں معیشت میں ریلیف تو دیتی ہیں لیکن اس سے ریونیو پر دباؤ بڑھتا ہے۔
اسی وجہ سے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی سطح پر بات چیت جاری ہے۔
ٹیکس رعایتیں اور آئندہ حکمت عملی
حکومت کا کہنا ہے کہ تمام ٹیکس رعایتیں حتمی منظوری کے بعد عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔
مزید پیش رفت آئی ایم ایف مذاکرات کے نتائج پر منحصر ہوگی۔