مزدور حقوق کے حوالے سے سندھ کے وزیر محنت و افرادی قوت سعید غنی نے کہا ہے کہ حکومت مزدوروں اور محنت کش طبقے کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں آل پاکستان وومن ورکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ مزدور حقوق کے تحفظ کے لیے صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ مزدوروں کے اتحاد اور شعور کی بھی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور مزدور تنظیموں کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔
سعید غنی اور مزدور حقوق پالیسی
سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہوم بیسڈ ورکرز کو قانونی حیثیت دی۔ ان کے مطابق یہ اقدام محنت کش خواتین کے حقوق کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں بہتری کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ تاہم سماجی رویوں میں تبدیلی وقت کے ساتھ آتی ہے۔
مزید برآں انہوں نے خواتین کی معاشی شمولیت کو معاشرتی ترقی کے لیے ضروری قرار دیا۔
سعید غنی کے کرپشن سے متعلق بیانات
وزیر محنت نے دعویٰ کیا کہ 2016 میں انہیں ماہانہ رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔ ان کے مطابق انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کیا اور متعلقہ شخص کے خلاف کارروائی کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے ادارے میں اربوں روپے کی کرپشن کے معاملات سامنے آئے ہیں۔ حکومت ان کیسز میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض معاملات میں عدالتی فیصلوں کے باعث انتظامی مشکلات بھی پیش آتی ہیں۔
کم از کم اجرت اور مزدور حقوق
سعید غنی نے کہا کہ کم از کم 40 ہزار روپے ماہانہ اجرت کے قانون پر مکمل عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس ہر فیکٹری کی مسلسل نگرانی کے لیے محدود وسائل موجود ہیں۔
انہوں نے مزدوروں پر زور دیا کہ اگر انہیں مقررہ اجرت نہیں مل رہی تو متعلقہ اداروں کو تحریری شکایات دیں۔
مزید یہ کہ مزدوروں کے اتحاد کو ان کے حقوق کے حصول کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
خواتین ورکرز اور سماجی تحفظ
سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہاؤسنگ منصوبوں میں خواتین کو ملکیت کے حقوق دیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لاکھوں خواتین کو مختلف فلاحی اور سماجی تحفظ پروگراموں سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔
مزید برآں ہوم بیسڈ ورکرز کی رجسٹریشن اور سوشل سیکیورٹی سہولیات کو مزید بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔
سندھ حکومت اور مزدور فلاح پروگرام
وزیر محنت کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ رجسٹرڈ مزدوروں اور ان کے خاندانوں کو بہتر تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مزدوروں کی فلاح کے لیے مزید اصلاحات زیر غور ہیں۔ ان کے مطابق وفاقی سطح پر موجود بعض اداروں کے اختیارات بھی اس عمل میں اہم کردار رکھتے ہیں۔
تقریب میں مزدور رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور مزدوروں کے مسائل پر اپنی آراء پیش کیں۔
References:
Reef casino cairns https://casino-secret.online-spielhallen.de/
سعید غنی صاحب جب لیبر کے مشیر بنے تھے تو اس وقت انھوں نے ولیکا ہسپتال میں مریضوں کے لئے صبح 8 بجے وزٹ کئے لیکن جب یہ منسٹر بن گئے تو انہوں نے مزدوروں کی ویلفیئر کے کاموں پر توجہ نہیں دی سندھ کے مزدوروں کا برا حال ہوگیا ہے اور سیسی اور ویلفیئر کے اداروں میں مزدوروں کی اسکیمیں بند ہیں مزدوروں کی ویلفیئر کے کاموں کے لئیے رکھی گئی رقم خرچ ہی نہیں کی جاتی کرپشن کا بہانہ بنا کر سعید غنی صاحب کیا آپ بتا سکتے ہیں کے آپ کے موجودہ دور میں ورکروں کی ویلفیئر پر کتنی رقم خرچ کی گئ اور کتنی نئی اسکیم بنائی گئیں ولیکا ہسپتال میں مریضوں کے لئے کیا سھولیات دی گئیں آپ کے بے نظیر کارڈ نے ورکروں کو کیا فائدے دیے الٹا ورکر کبھی اس سے سائن کروا کبھی اس سے کبھی ایم ایس کے دفتر کے باھر لائن میں لگو کبھی ڈی ایم ایس کی لائن میں لگو اور لائن میں لگ کر بھی تمام دوائیاں نہیں ملتی تو پھر پہلی منزل پر جا کر مین اسٹور میں لائن میں لگو مزدور اگر کمپنی سے دوائ لینے کے لئے دو گھنٹے کی چھٹی لے کر آتا ہے تو اس کے کم از کم 4 گھنٹے ہسپتال میں لگ جاتے ہیں اور پہر ورکر کو پوری چھٹی کرنی پڑتی ہے جو اے سی والی بڑی ایمبولینس ہیں وہ آئ تو ورکروں کے لیے تھیں مگر وہ مزدوروں کو نہیں اسٹاف کو اپنے کام کے لئے ملتی ہیں یعنی پرائیویٹ کام میں لاتے ہیں اور مزدور پرانی ایمبولینس میں گرمی میں خوار ہوتے ہیں یہ ظلم اور کرپشن آپکو نظر نہیں آتی مزدوروں کی کراچی میں دو لیبر کالونیاں معمار/ نادرن آپ کو نظر نہیں آتی ٹھیکیدار نے جتنے ارب کا ٹھیکہ لیا ہے کیا اس نے آدھی رقم معمار کی لیبر کالونی پر خرچ کی ہے یا سارہ مال ڈبے میں کبھی آپ نے خود ان لیبر کالونیوں کا وزٹ کیا ہے مزدور کس حال میں پانی بجلی کے بغیر گزارہ کر رہے ہیں آپ کو مزدوروں نے بتایا کے کرپشن کی جا رہی ہے آپ نے ان مزدوروں کو جواب دیا ثبوت لاؤ کیا آپکے لیبر ڈیپارٹمنٹ میں سارے فرشتے ہیں ہر ماہ فیکٹریوں میں جا کر اربوں روپے بھتہ لیتے ہیں ویسٹ کا ڈائریکٹر سرفراز اعوان کیا فرشتہ ہیے رجومل کیا فرشتہ ہے اسی طرح اور بھی نام ہیں آپ تو مزدوروں کے لئے جب تک مشیر محنت تھے تب تک اچھے تھے منسٹر بن کر آپ مزدوروں سے دور ہو گئے اور مزدور برباد ہو گیا سیسی اور سندھ ورکر بورڈ مزدوروں کے کنٹری بیوشن سے چلتے ہیں مگر ان اداروں میں مزدوروں کے ساتھ بھکاریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے خدارا مزدور دوست بنے اور یہ نظر بھی آئے آپ نے اپنی مرضی کی گورننگ باڈی بنانے کے لئے کابینہ سے اور اسمبلی سے اپنی مرضی کا قانون بنا لیا کیوں بنکر کیا جانے مزدوروں کے مسائل کیا ہیں اور کچھ اور لوگ یہ ادارے ورکروں کے پیسے سے چلتے ہیں اس لئے ان کی فلاح کی جائے نہ کے اپنی جب سے 2014 کا ایکٹ بنا ہے ان اداروں کے سربراہان باہر سے آتے ہیں کیا وہ سب اپنی تنخواہوں پر گزارہ کرتے ہیں یونین نہی یہ قانون بنوا کر آپ کی پارٹی نے مزدوروں کے ساتھ اچھائی نہیں کی بلکہ کرپشن اور بڑھ گئی ہے جس میں آپ بھی شامل ہیں سائٹ کی لیبر کالونی میں آپنے 12 کڑور روپے کی خورشید شاہ صاحب کے زمانے میں اسکیم منصور کروائی تھی اس وقت 12 کڑور ڈالر کے حساب سے اب کتے بنتے ہیں دوبارہ۔سے۔پھر رقم خرچ کی جا رہی ہے جو کڑوروں رہے آپ کے دور میں خرچ ہوئے اس کا حساب کون دے گا؟؟؟
References:
Vegadream casino bonus Echtgeld Roulette
References:
Club hollywood casino https://docentesdeingles.ec/employer/fast-payments
References:
Hugo Casino Bonus ohne Einzahlung Hard Rock Casino Las Vegas Adresse