نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے اپنی سلور جوبلی کے موقع پر پاکستان کا پہلا ڈی میٹیریلائزڈ ڈیجیٹل شناختی کارڈ متعارف کروا دیا ہے۔ اس جدید کارڈ کے ذریعے شہری اپنی شناخت موبائل فون پر محفوظ کر سکیں گے، جس سے روایتی شناختی کارڈ ساتھ رکھنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا جنوبی وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ، جوانوں کے ساتھ عید منائی
یہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ نادرا کی موبائل ایپلیکیشن ‘پاک آئیڈینٹی’ کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کارڈ کے ذریعے شہری کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ اپنی قومی شناخت استعمال کر سکیں گے، جبکہ اس کا جدید بائیومیٹرک تصدیقی نظام جعل سازی کے امکانات کو ختم کر دے گا۔
نادرا حکام کے مطابق، بینک، سرکاری محکمے اور ٹیلی کام کمپنیاں اس نظام سے منسلک ہو جائیں گی، جس کے بعد شناختی تصدیق فوری اور آسان ہو جائے گی۔ یہ اقدام مختلف سروسز جیسے پاسپورٹ، ڈومیسائل، بینک اکاؤنٹ کھلوانے، آن لائن مالیاتی سرگرمیوں اور موبائل سم حاصل کرنے کے عمل کو تیز اور محفوظ بنا دے گا۔
شہری پاک آئیڈینٹی ایپ کے ذریعے دیگر نادرا سروسز جیسے ایف آر سی، چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، پروف آف لائف سرٹیفکیٹ وغیرہ کے لیے بھی درخواست دے سکیں گے۔ موبائل میں موجود ڈیجیٹل والٹ میں تمام قانونی دستاویزات محفوظ ہوں گی، جن تک کسی دوسرے فرد کو رسائی نہیں ہوگی۔
نادرا کا یہ منصوبہ ورلڈ بینک کے اشتراک سے 14 اگست 2025 سے پائلٹ مرحلے میں داخل ہوگا، جس کا مقصد ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینا اور سرکاری و نجی اداروں کے کام میں جدت لانا ہے۔