دسمبر 2024 میں سوات کے منگلوار تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) رحیم خان، مینگورہ شہر میں منشیات کے اسمگلروں کے ساتھ مقابلے کے دوران شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا تھا۔ پولیس کی ایک خصوصی ٹیم بدنام زمانہ منشیات اسمگلروں شریف خان عرف شریفے اور احمد زیب کا تعاقب کر رہی تھی، جب یہ واقعہ پیش آیا۔
عدالت میں پیشی، ملزم کامران اصغر قریشی کا پولیس تشدد کا الزام، دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) سوات ناصر محمود کے ترجمان معین علی کے مطابق، پولیس نے آج فضاگٹ کے پہاڑی علاقے میں ایس ایچ او رحیم خان کے قتل میں ملوث ملزم کے خلاف انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کیا۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ملزمان نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کانسٹیبل نیاز محمد شہید جبکہ ایڈیشنل سب انسپکٹر (اے ایس آئی) امجد اقبال، کانسٹیبل محمد حسین اور کانسٹیبل سرفراز زخمی ہوگئے۔
معین علی نے مزید تصدیق کی کہ فائرنگ کے تبادلے میں مطلوب منشیات اسمگلر اور ایس ایچ او رحیم خان کے قتل کا مرکزی ملزم احمد زیب کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس مشتبہ شخص کی رہائش گاہ پر پہنچی، جہاں اضافی نفری تعینات کر کے گھر کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ پولیس کی جانب سے تلاشی اور گرفتاری کی کوشش کے دوران مزاحمت پر مقابلہ ہوا۔
ڈی پی او کے ترجمان کے مطابق، زخمی پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر سیدو شریف اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی حالت خطرے سے باہر قرار دی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
مینگورہ کے ایس ایچ او مجیب عالم نے ڈان نیوز کو بتایا کہ پولیس کی کارروائی تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے چار منزلہ عمارت کے تمام کمروں کی تلاشی لے کر شواہد اکٹھے کیے۔