...

واضح رہے کہ شیر افضل خان مروت چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بھی ہیں۔

یورپ کے ہیڈ کوارٹر برسلز میں کشمیر کونسل یورپ (کے سی ای یو) 5 سے 15 دسمبر 2023 تک ‘ہفتہ کشمیر’ کا انعقاد کرے گی۔

اس بات کا اعلان کشمیر کونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے آج برسلز میں ایک بیان میں کیا۔ 

ہفتہ کشمیر کی تقریبات میں سیمینار، کانفرنسز، خصوصی میڈیا کانفرنس، مباحثے اور یورپی پریس کلب برسلز اور یورپی پارلیمنٹ میں تصویری نمائش شامل ہیں۔

5 دسمبر 2023 بروز منگل شروع ہونے والے ہفتہ کشمیر کے دوران یورپی حکام، یورپی پارلیمنٹ کے اراکین، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں سے بھی کئی ملاقاتیں ہوں گی۔

چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے بتایا کہ کشمیر کونسل کے زیر اہتمام ہفتہ کشمیر کے پروگرام کئی سالوں سے منعقد کیے جارہے ہیں اور replica Rolex watches اس طرح کے پروگراموں کا مقصد مسئلہ کشمیر بشمول مظلوم کشمیریوں کے مصائب اور کشمیر کی ثقافت کی خوبصورتی کو یورپ میں اُجاگر کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح اس وقت پوری دنیا میں عوام ریاستی دہشت گردی اور عام شہریوں پر مظالم کے خلاف کھڑے ہیں، ہمیں امید ہے کہ دنیا بھی کشمیریوں پر بھارتی مظالم کو روکنے پر توجہ دے گی۔

انہوں نے عالمی برادری خصوصاً یورپی یونین سے کہا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے Rolex replica watches جرائم کو فوری طور پر بند کرے اور کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق انہیں حق خودارادیت دے۔

علی رضا سید نے کہا کہ 1947 سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو لامتناہی مشکلات کا سامنا ہے اور ان کی مشکلات میں روز بروز replica watches اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کشمیر کونسل ای یو کے صدر کا کہنا تھا کہ یورپی یونین سمیت عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام پر ہونے والے مظالم کو روکنے کےلیے فوری ایکشن لے تاکہ متنازع سرزمین کی صورتحال کو معمول پر لایا جائے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کو پُرامن ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ اپنی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کا استعمال کر سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.