مطابق کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کے خلاف پولیس اہلکار سمیت تین افراد کے قتل کا مقدمہ زیر سماعت آیا۔
پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس کی سماعت 21 جنوری کو ہوگی
وکیل صفائی کا مؤقف
عذیر بلوچ کے وکیل، ایڈووکیٹ فاروق حیدر جتوئی، نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عذیر بلوچ کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ:
عذیر بلوچ کو پہلے سے گرفتار ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا۔
دیگر ملزمان پہلے ہی اس مقدمے سے بری ہوچکے ہیں۔
کسی عینی شاہد نے عذیر بلوچ کی شناخت نہیں کی۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے شواہد کی کمی اور گواہوں کی عدم موجودگی کے باعث عذیر بلوچ کو 2009 میں چاکیواڑہ تھانے میں درج کیے گئے اس مقدمے میں بری کردیا۔
پس منظر
عذیر بلوچ پر لیاری گینگ وار کے سرغنہ ہونے اور مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ تاہم، اس کیس میں عدالت نے اسے ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کردیا ہے۔