ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان جیتی بازی ہار گیا، بھارت 120رنز کے دفاع میں کامیاب

نیویارک کے نساؤ کاؤنٹی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ شام ساڑھے 7 بجے شروع ہونا تھا، لیکن اسٹیڈیم اور اس کے اطراف شدید بارش کی وجہ سے ٹاس وقت پر نہ ہو سکا۔ بالآخر، شام ساڑھے سات بجے ہونے والے ٹاس میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا اور بھارت کو بیٹنگ کی دعوت دی۔

بھارتی اوپنرز اپنی ٹیم کو اچھا آغاز فراہم نہیں کر سکے تھے۔ میچ تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا، اور شاہین شاہ آفریدی کے پہلے اوور میں روہت شرما نے ایک چھکے کی بدولت 8 رنز بنائے۔ پہلے اوور کے بعد بارش نے دوبارہ مداخلت کی، جس کی وجہ سے دونوں ٹیموں کو پویلین لوٹنا پڑا۔

ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان جیتی بازی ہار گیا، بھارت 120رنز کے دفاع میں کامیاب

 

تقریباً آدھے گھنٹے بعد میچ دوبارہ شروع ہوا۔ ویرات کوہلی نے نسیم شاہ کو چوکا لگایا، لیکن ایک گیند بعد کورز کے اوپر سے شاٹ کھیلنے کی کوشش میں عثمان خان کو آسان کیچ دے بیٹھے۔ بھارت نے دو اوورز میں 19 رنز بنائے تھے، لیکن تیسرے اوور میں شاہین کی گیند پر چھکا مارنے کی کوشش میں روہت شرما بھی کیچ دے کر پویلین لوٹ گئے، انہوں نے 13 رنز بنائے۔

دو وکٹیں گرنے کے بعد بھارت نے ریشابھ پنت کا ساتھ دینے کے لیے اکشر پٹیل کو بھیجا۔ اکشر پٹیل نے سنبھل کر کھیل پیش کیا، جبکہ پنت پاکستانی کھلاڑیوں کی ناقص فیلڈنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رنز بٹورنے میں کامیاب رہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے تیسری وکٹ کے لیے 39 رنز جوڑے، لیکن نسیم شاہ نے اکشر پٹیل کی 18 گیندوں پر 20 رنز کی اننگز کا خاتمہ کیا۔

ریشابھ پنت نے اننگز کے دوران ایک اور موقع حاصل کیا جب عثمان ایک بار پھر ان کا کیچ نہ لے سکے۔ پنت نے 31 گیندوں پر 42 رنز کی اہم اننگز کھیلی، لیکن عامر نے اپنے دوسرے اسپیل کی پہلی ہی گیند پر پنت کو آؤٹ کرنے کے بعد اگلی ہی گیند پر رویندرا جدیجا کو بھی چلتا کیا۔ اننگز کے 18ویں اوور میں حارث رؤف کی گیند پر چھکا مارنے کی کوشش میں ہردک پانڈیا بھی پویلین لوٹ گئے۔

بھارت کی بیٹنگ لائن کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف تین بلے باز ہی ڈبل فیگر میں داخل ہو سکے۔ پاکستان کی جانب سے نسیم اور حارث نے تین، تین، عامر نے دو جبکہ شاہین نے ایک وکٹ حاصل کی۔

پاکستان نے اننگز کا آغاز کیا تو محمد رضوان خوش قسمت رہے، اور شیوم دوبے ان کا آسان کیچ نہ لے سکے۔ اوپنرز نے پاکستان کو 26 رنز کا آغاز فراہم کیا، لیکن بابر اعظم ملنے والے موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور جسپریت بمراہ کی گیند پر 13 رنز بنا کر سلپ میں کیچ دے بیٹھے۔ عثمان خان اور محمد رضوان نے ٹیم کی نصف سنچری مکمل کرائی، لیکن عثمان 15 گیندوں پر 13 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

فخر زمان نے چھکا اور چوکا لگا کر خطرناک عزائم ظاہر کرنے کی کوشش کی، لیکن ہردک پانڈیا کی گیند پر غلط شاٹ کھیلنے کی کوشش میں 13 رنز بنا کر وکٹ گنوا بیٹھے۔ پاکستان کو بڑا دھچکا اس وقت لگا جب بمراہ نے محمد رضوان کو بولڈ کر دیا، جنہوں نے 44 گیندوں پر 31 رنز بنائے۔

فیصل آباد اور کراچی کے درمیان 7 ماہ بعد فضائی رابطہ بحال

 

شاداب خان صرف 4 رنز بنا کر ہردک پانڈیا کی دوسری وکٹ بن گئے۔ افتخار احمد 9 گیندوں پر 5 رنز بنا کر بمراہ کی میچ میں تیسری وکٹ بن گئے۔ عماد وسیم نے 23 گیندیں کھیل کر 15 رنز بنائے اور ارشدیپ کی گیند پر وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔ نسیم شاہ نے آخری اوور میں دو چوکے لگائے، لیکن پاکستانی ٹیم مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 113 رنز ہی بنا سکی۔

بھارت نے میچ میں 7 وکٹوں سے کامیابی حاصل کر کے ایونٹ میں مسلسل دوسری کامیابی حاصل کی۔ بھارت کے جسپریت بمراہ کو 14 رنز کے عوض تین وکٹیں لینے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

پاکستان کی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھی: بابر اعظم (کپتان)، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، فخر زمان، عثمان خان، افتخار احمد, شاداب خان، عماد وسیم، شاہین آفریدی، حارث رؤف، نسیم شاہ اور محمد عامر۔

60 / 100

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!