اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں کا سپیریم جوڈیشل کونسل کا خط اور انصاف کی متلاشی عوام

آج کل شہ سرخیوں میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے جانے والے خط کے بارے میں خبریں خوب گردش کر رہی ہیں۔ خط کے متن کے مطابق ہائیکورٹ کے 6 ججز کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو کہا گیا کہ خفیہ ایجنسیاں من پسند فیصلوں کے لیے ججز پر دباوُ ڈالتی ہیں اور ان کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ججز نے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں عدلیہ کا ایک کنونشن بلایا جائے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ہم بطور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز سپریم جوڈیشل کونسل سے ایگزیکٹیو ممبران بشمول خفیہ ایجنسیوں کے ججز کے کام میں مداخلت اور ججز کو دباؤ میں لانے سے متعلق رہنمائی چاہتے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے نتیجے میں سامنے آیا جس میں سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی سال 2018 میں برطرفی کو غلط اور غیر قانونی قرار دیا گیا اور کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ریٹائرڈ تصور کیا جائے گا۔ واضح کرتے چلیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اس وقت برطرف کر دیا گیا تھا جب ان کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بینچز کی تشکیل اور احتساب عدالت اسلام آباد میں مقدمات کے ٹرائل میں مداخلت کرتے ہیں۔ خط کے مطابق ان الزامات کے بعد اس وقت کی وفاقی حکومت اور آرمی چیف کی جانب سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف شکایات دائر کی گئی تھیں۔

خط میں یہ بھی لکھا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ٹیرین وائٹ کیس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کیا تھا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں درخواست کو قابل سماعت قرار دیا تھا تاہم بینچ میں شامل دیگر 2 ججز کی جانب سے چیف جسٹس کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا تھا۔

خط لکھے جانے کے فوری بعد پی ٹی آئی کی جانب سے تحریک التوا جمع کروائی گئی اور خط پر بحث کروانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ انہی دنوں سوشل میڈیا پر خاتون پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے۔ منظر عام پر آنے والی ویڈیو کا تنازعہ سال 2022 میں پیش آیا تھا۔ وائرل ویڈیو میں سرجانی ٹاون میں ایک خالی پلاٹ پر جانے والی خاتون کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جارہا ہے۔ جس کی ایف آئی ار تھانہ سرجانی میں درج کی گئی تھی۔ ویڈیو میں موجود افراد حاملہ خاتون کو ہراساں کر رہے ہیں اور ان میں سے ایک شخص کو خاتون کو زود کوب کرتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ کیس جے ایم 5 ویسٹ کی عدالت مین زیر سماعت ھے۔

ملزمان نے عدالت سے ضمانت لی ھوئی ھے۔ ثبوت کے طور پر ویڈیو معزز عدالت میں بھی دیکھائی گئی تھی۔ لیکن وہ خاتون آج بھی انصاف کی متلاشی ہے۔ ایک اور توجہ طلب خبر یہ بھی سامنے آئی کہ 2,700 بلین روپے کے واجبات ٹریبونل اور اپیل کورٹس میں قانونی چارہ جوئی کے تحت پھنسے ہوئے ہیں اگر بروقت سماعت اور قانونی چارہ جوئی کی جائے تو یہ ملکی معیشت کی بہتری میں بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ہم آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بھی بچ سکتے ہیں۔ اب ہم معزز جج صاحبان سے درخواست کرتے ہیں کہ زیر التوا مقدمات کو جلد از جلد نمٹائیں تاکہ ملکی بہتری بھی ہوسکے اور حکومت کی جانب سے بنائے گئے کمیشن پر اعتماد بھی رکھیں کہ وہ مکمل تحقیقات کے بعد انصاف پر مبنی رپورٹ فراہم کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!