نئے صوبے: بلوچستان میں نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے، سرفراز بگٹی

بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں نئے صوبوں کی ضرورت ہے، تاہم اس حوالے سے فیصلہ وسیع تر اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے عوامی مسائل جلد حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

قومی مباحثے میں سیاسی رہنماؤں نے نئے صوبوں کے قیام، انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات، مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر تبادلۂ خیال کیا۔

بلوچستان میں ڈویژنوں کی تعداد 12 ہوگئی

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ بلوچستان میں ڈویژنوں کی تعداد 8 سے بڑھا کر 12 کردی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹس میں اضافے سے عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے اور مسائل کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کے لیے اتفاقِ رائے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

ڈویژن کی سطح پر انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق ڈویژن کی سطح پر نئے انتظامی یونٹس بنانا ایک قابلِ غور تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ انگریز دور میں قائم ہونے والا ڈویژنل نظام جغرافیائی لحاظ سے مؤثر بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ان کے خیال میں ملک بھر میں تقریباً 32 انتظامی یونٹس بنائے جا سکتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے پولیس کے نظام کو بھی مقامی سطح پر منظم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں پولیس کے عوام کے ساتھ رویے سے متعلق مثالیں سامنے رکھی جا سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے کے ساتھ اس کی مخالفت بھی موجود ہے، اس لیے اس معاملے پر متوازن فیصلہ ضروری ہے۔

نئے صوبے بنانا تقسیم نہیں، اسد عمر

سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ آئین میں اس کا طریقہ کار موجود ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا مسئلہ صرف اختیارات کی منتقلی نہیں، بلکہ انتظامی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بھی ہے۔

اسد عمر نے بااختیار مقامی حکومتوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے عوام کو خدمات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

ان کے مطابق ملک کی تقریباً 25 کروڑ آبادی کے مقابلے میں نمائندوں کی تعداد ناکافی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دو صوبائی اسمبلیاں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قراردادیں بھی منظور کرچکی ہیں۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کا قیام محض تقسیم کا معاملہ نہیں، بلکہ عوام تک مؤثر انداز میں خدمات پہنچانے کے لیے انتظامی خلا کو دور کرنا بھی ضروری ہے۔

نئے صوبوں سے پہلے بنیادی تیاری ضروری ہے، خرم دستگیر

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر نے کہا کہ نئے صوبوں کی تشکیل ایک اہم عمل ہے۔ تاہم اس سے پہلے آبادی میں اضافے پر قابو پانے اور نئے انتظامی ڈھانچے کے لیے ضروری بنیادیں تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

مباحثے کے شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ نئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات سے متعلق فیصلے وسیع مشاورت اور اتفاقِ رائے سے کیے جائیں۔ ان کے مطابق اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے اہم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!