سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) کورنگی کی شکایت پر معاملے کی تحقیقات کیں۔ کمیشن کے مطابق ڈاؤ لیبارٹری میں بچے کے نمونوں کی جانچ کے دوران منکی پاکس وائرس کی تصدیق ہوئی۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ نومولود کا ختنہ کرنے والے مرکز میں استعمال ہونے والے طبی آلات میں وائرس موجود تھا۔ اس کے بعد متعلقہ اسپتال کے خلاف کارروائی کی گئی۔
ابن حسن اسپتال کے خلاف کارروائی
کمیشن نے ڈی ایچ او کورنگی اور ایس ایس پی کورنگی کے تعاون سے کارروائی کی۔ ابن حسن اسپتال سعودآباد پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع ہے۔
حکام کے مطابق اسپتال غیر قانونی طور پر چلایا جا رہا تھا۔ وہاں غیر مستند عملہ بچوں کے ختنے کر رہا تھا۔ کارروائی کے دوران اسپتال کے عملے نے مزاحمت کی اور اپنے ساتھیوں کو بھی بلا لیا۔
صورتحال کے پیش نظر حکام نے پولیس کی مدد حاصل کی۔ پولیس کی موجودگی میں اسپتال کا معائنہ کیا گیا۔ بعد ازاں اسے سیل کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران مبینہ اتائی اور دیگر افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
صفائی اور حفاظتی انتظامات پر سوالات
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے اسپتال میں صفائی کی صورت حال کو ناقص قرار دیا۔ حکام کے مطابق وہاں انفیکشن سے بچاؤ کے انتظامات بھی ناکافی تھے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طبی سرگرمیوں اور حفاظتی اقدامات کی کمی سے مریضوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق تھے۔ واقعے نے طبی مراکز میں جراثیم سے پاک آلات اور مستند عملے کی موجودگی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
حکام نے مریضوں کی حفاظت اور غیر قانونی طبی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے کارروائی کی۔ تاہم، اسپتال کے خلاف مزید قانونی اقدامات کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔