کراچی: وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت سندھ پرائیویٹ سیکیورٹی ایکٹ 2026 میں مجوزہ ترامیم سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے لائسنس کے اجرا، سیکیورٹی گارڈز کی تربیت اور ان کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
ترجمان کے مطابق اجلاس میں مجوزہ ایکٹ کے مسودے اور ترامیم سے متعلق مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ سفارشات اور قابلِ عمل تجاویز پر مشتمل ڈرافٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سیکریٹری داخلہ سندھ اقبال میمن نے اجلاس کو مجوزہ ترامیم اور ان سے متعلق سفارشات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ضیاء الحسن لنجار نے ہدایت کی کہ مجوزہ ترامیم میں قواعد و ضوابط کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے لائسنس کے اجرا کے لیے مقررہ شرائط پر عمل درآمد کیا جائے۔
وزیر داخلہ سندھ نے سیکیورٹی گارڈز کی تربیت کے لیے جامع اور قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معیاری تربیت کے ذریعے گارڈز کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تربیتی عمل میں پیشہ ورانہ مہارت، ذمہ داری اور جدید تقاضوں کو خصوصی اہمیت دی جائے۔
بیرون ملک روانگی کے لیے مبینہ رشوت طلب کرنے کا انکشاف، ایف آئی اے کی تحقیقات شروع
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں نجی سیکیورٹی کے نظام کو قانون کے مطابق منظم اور مؤثر بنانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سیکیورٹی کمپنیوں کی کارکردگی اور پیشہ ورانہ معیار بہتر بنانے کے لیے مؤثر قانونی اقدامات ضروری ہیں۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ مجوزہ ترامیم ایسی ہونی چاہئیں جو نجی سیکیورٹی کے شعبے میں بہتری لانے اور قواعد و ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترامیم کو مؤثر بنانے کے لیے تمام امور کا قانونی اور انتظامی پہلوؤں سے جائزہ لیا جائے اور نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے قابلِ عمل سفارشات مرتب کی جائیں۔
اجلاس میں سیکریٹری داخلہ سندھ اقبال میمن، ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو، سیکریٹری قانون سعید احمد شیخ، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، کوآرڈینیٹر ٹو وزیر داخلہ سندھ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔