اسلام آباد: فراڈ سے متاثرہ گولڈ میڈلسٹ طالبہ کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے شہزاد بخاری نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے طالبہ کے اہلخانہ سے رابطہ کیا ہے۔
اہلخانہ کے مطابق کنسلٹنٹ نے خود کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا اکاؤنٹس افسر ظاہر کیا تھا۔ اس نے طالبہ کے بھائی کو سرکاری ملازمت دلوانے کے نام پر پانچ لاکھ روپے بھی وصول کیے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ ایجنٹ نے خود کو طالبہ کا اسپانسر بھی ظاہر کیا تھا۔ ایف آئی اے نے طالبہ کے ماموں رانا امجد سے واقعے کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
پوسٹ مارٹم کے بعد مقدمہ درج ہوگا
طالبہ کی نماز جنازہ جی ٹین سیکٹر میں ادا کی گئی۔ بعد ازاں ایچ الیون قبرستان میں تدفین کردی گئی۔
پولیس نے واقعے کی رپورٹ درج کرلی ہے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد طالبہ کے ماموں کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
حکام کے مطابق طالبہ کی موت کی اصل وجہ تحقیقات مکمل ہونے پر سامنے آئے گی۔ فی الحال یہ حتمی طور پر واضح نہیں کہ واقعہ خودکشی تھا یا قتل۔
امریکا میں تعلیم دلوانے کے نام پر مبینہ فراڈ
اہلخانہ کے مطابق کنسلٹنٹ نے طالبہ کو امریکا بھجوانے کے لیے 70 لاکھ روپے مانگے تھے۔ بیٹی کے مستقبل کے لیے والد نے اپنا پلاٹ فروخت کرکے 21 لاکھ روپے ادا کیے۔
باقی رقم کا انتظام کرنے کے لیے والدہ کے زیورات بھی بینک میں رکھوائے گئے۔
طالبہ کے ماموں رانا امجد کے مطابق وہ انتہائی ذہین تھی۔ اس نے اسکالرشپ پر یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ امریکا جاکر ہارورڈ یونیورسٹی میں فزکس کی تعلیم حاصل کرنا اور سائنسدان بننا چاہتی تھی۔
داخلے اور ویزے کی دستاویزات جعلی نکلنے کا الزام
اہلخانہ کا الزام ہے کہ ایجنٹ نے ہارورڈ یونیورسٹی میں تعلیم دلوانے کے وعدے کیے۔ تاہم، جب داخلے، ویزے اور بینک اسٹیٹمنٹ کی دستاویزات کی جانچ کرائی گئی تو وہ جعلی نکلیں۔
اہلخانہ کے مطابق اس انکشاف سے طالبہ کے تعلیمی خواب ٹوٹ گئے۔
سونے کی قیمت: فی تولہ 1100 روپے مہنگا، چاندی بھی بڑھ گئی
آخری پیغام میں فراڈ کا ذکر
طالبہ نے آخری پیغام میں اپنے ماموں کو مبینہ فراڈ کے بارے میں بتایا۔ اہلخانہ کے مطابق اس نے پیغام میں والد کو حقیقت نہ بتانے کی درخواست بھی کی تھی۔
ایف آئی اے اور پولیس کی تحقیقات کے بعد ہی واقعے کے تمام حقائق سامنے آسکیں گے۔