آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو سے وومین ایکشن فورم کے 8 رکنی وفد نے ملاقات کی۔
ملاقات سینٹرل پولیس آفس کراچی میں ہوئی۔ وفد کی سربراہی مس ملکہ خان نے کی۔
ملاقات میں سندھ پولیس کے مختلف سینئر افسران بھی شریک ہوئے۔ ان میں متعلقہ ڈی آئی جیز اور اے آئی جیز شامل تھے۔
وفد میں عظمیٰ نورانی، انیتا پن جانی، نزہت شیریں، راحیلہ رحیم اور انیس ہارون شامل تھیں۔
ملکہ خان، کوثر ایس خان اور سیمی کمال بھی وفد کا حصہ تھیں۔
خواتین کے مسائل پر گفتگو
وفد نے خواتین کو درپیش مسائل پر آئی جی سندھ کو بریفنگ دی۔
ملاقات میں جنسی ہراسانی اور تشدد کے واقعات زیر بحث آئے۔ خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی پر بھی گفتگو ہوئی۔
وفد نے خواتین کے خلاف زیادتی کے واقعات پر پولیس اقدامات کا جائزہ لیا۔
باہمی تعاون اور دیگر متعلقہ امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد نے سندھ پولیس کی فوری کارروائی کو سراہا۔ مؤثر اقدامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔
مشترکہ واٹس ایپ گروپ کی بحالی
وفد نے مشترکہ واٹس ایپ گروپ بحال کرنے کی درخواست کی۔
گروپ کے ذریعے سنگین واقعات کی نشاندہی کی جاتی تھی۔ پولیس کارروائی اور آگاہی کے لیے بھی یہ رابطہ اہم تھا۔
آئی جی سندھ نے گروپ بحال کرنے کی ہدایت کردی۔
انہوں نے وفد کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
خواتین اور بچوں کے تحفظ پر زیرو ٹالرنس
آئی جی سندھ نے کہا کہ خواتین اور بچوں پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔
جنسی ہراسانی اور زیادتی کے واقعات پر بھی سخت کارروائی ہوگی۔
انہوں نے ایسے واقعات میں بلاامتیاز قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔
جاوید عالم اوڈھو نے شکایات پر فوری ردعمل کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے مقدمات کا بروقت اندراج یقینی بنانے کا حکم دیا۔ تفتیش کا معیار برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی۔
متاثرین کے ساتھ حساس رویہ اپنانے کی ہدایت
آئی جی سندھ نے متاثرین کے ساتھ باوقار رویے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی سے پیش آیا جائے۔
انہیں غیر ضروری مشکلات سے بھی محفوظ رکھا جائے۔
آئی جی سندھ کے مطابق خواتین اور بچوں کا تحفظ سندھ پولیس کی ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اس معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔