ولیکا اسپتال سے منسلک ایچ آئی وی متاثرہ بچوں کی تعداد 169 ہوگئی ہے۔ اسپتال میں متاثرین کی رجسٹریشن اور مالی معاونت کے لیے پانچ میڈیکل بورڈز قائم کیے جاچکے ہیں۔
اب تک 142 متاثرین میڈیکل بورڈ میں رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق 109 متاثرین کے بینک اکاؤنٹس بھی کھولے جاچکے ہیں۔
76 خاندانوں کو مالی معاونت
انڈومنٹ فنڈ کے تحت 76 متاثرہ خاندانوں کو مالی معاونت کی فراہمی شروع کردی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ان خاندانوں کو دو ماہ کی رقم منتقل کی جاچکی ہے۔
مزید 34 متاثرہ خاندان تاحال مالی معاونت کے منتظر ہیں۔ دستاویزات نامکمل ہونے سے رقم کی منتقلی میں رکاوٹ ہے۔
بے نظیر کارڈ سے متعلق مسائل بھی مالی معاونت کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
متاثرہ بچوں کی تعداد میں اضافہ
ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے سامنے آرہا ہے۔
ابتدائی طور پر سرکاری سطح پر 78 متاثرہ بچوں کی اطلاع دی گئی تھی۔ بعد میں مزید بچوں کی اسکریننگ اور ٹیسٹ کیے گئے۔
اس عمل کے بعد متاثرہ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق تعداد 169 تک پہنچ گئی ہے۔
اموات کے اعداد و شمار میں فرق
ذرائع کے مطابق ایچ آئی وی سے متاثرہ 9 بچوں کی اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔
تاہم، اسپتال کے ریکارڈ میں صرف دو اموات درج ہیں۔ اس طرح اموات کے اعداد و شمار میں واضح فرق موجود ہے۔
جاں بحق بچوں کے خاندانوں کو تاحال انڈومنٹ فنڈ سے مالی معاونت نہیں ملی۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ خاندانوں کی مالی امداد کا معاملہ آئندہ اجلاس میں زیر غور آسکتا ہے۔
اجلاس میں امدادی رقم اور ادائیگی کے طریقہ کار پر فیصلہ متوقع ہے۔
تحقیقات اور انتظامی کارروائیاں
معاملے کی تحقیقات کے لیے مختلف سطحوں پر انکوائریاں شروع کی گئی ہیں۔
متاثرہ بچوں کے علاج، ادویات، ٹیسٹ اور تعلیم کے لیے انڈومنٹ فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔
انتظامی سطح پر بھی مختلف کارروائیاں کی جاچکی ہیں۔ متعدد ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق بعض ڈاکٹرز، ڈسپنسرز اور نرسنگ اسٹاف کے خلاف معطلی سمیت اقدامات کیے گئے۔
متاثرہ خاندانوں کی بحالی کا معاملہ
حکام متاثرہ بچوں کو علاج، ادویات اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا کہتے رہے ہیں۔
تاہم، 169 متاثرہ بچوں اور 9 اموات کے تازہ اعداد و شمار کے بعد معاملہ بدستور توجہ طلب ہے۔
متاثرین کی مکمل رجسٹریشن بھی اہم مسئلہ ہے۔ اموات کے ریکارڈ میں فرق بھی دور کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو بروقت مالی معاونت ملنی چاہیے۔ تمام متاثرین کا یکساں ریکارڈ بھی تیار ہونا چاہیے۔
اس اقدام سے متاثرہ بچوں اور خاندانوں کو اعلان کردہ امداد کی فراہمی میں مزید تاخیر سے بچا جاسکتا ہے۔