کراچی کے میر رضا قتل کیس میں مقتول کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے پولیس تفتیش پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کی۔
جبران ناصر نے کہا کہ ایک نمبر آخر تک میر رضا سے رابطے میں رہا۔ ان کے مطابق اب تک اس نمبر سے متعلق جواب سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے اے ایس پی ندا جنید کی تفتیش میں موجودگی پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیشی دستاویزات میں افسر کا نام موجود نہیں۔
میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر سوالات
جبران ناصر کے مطابق ڈی جی ہیلتھ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ ان کے مطابق میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔
وکیل نے کہا کہ ڈی جی ہیلتھ نے اپنی پیشی کے دوران اہم معلومات دیں۔ ان کے مطابق اسی دوران ڈی جی ہیلتھ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سپر میڈیکل بورڈ بنانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ تاہم خاندان کو اس حوالے سے تاحال جواب نہیں ملا۔
جبران ناصر نے سوال کیا کہ پہلے میڈیکل بورڈ کے ارکان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے یا نہیں۔ ان کے مطابق میڈیکل بورڈ عدالتی حکم پر تشکیل دیا گیا تھا۔
پولیس تفتیش پر مزید سوالات
جبران ناصر نے کہا کہ پولیس افسران نے قانون کے بجائے پریکٹس کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق اے ایس پی ندا جنید ہر گواہ کے بیان میں موجود رہیں۔
وکیل کے مطابق اے ایس پی ندا جنید نے اپنی موجودگی کی وجہ بھی بتائی۔ ان کے مطابق انہیں خاتون افسر ہونے کی بنیاد پر شامل رکھا گیا۔
جبران ناصر نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم میں دیگر خواتین افسران بھی موجود ہیں۔ انہوں نے اے ایس پی ندا کی موجودگی پر مزید وضاحت کا مطالبہ کیا۔
جیو فینسنگ اور سی سی ٹی وی کا معاملہ
جبران ناصر نے تفتیش میں جیو فینسنگ کے نتائج سامنے نہ آنے پر سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ نمبرز اب تک عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔
انہوں نے جائے وقوعہ کے قریب کیمروں کی ریکارڈنگ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق لاش ملنے والی گلیوں کی فوٹیج کا جائزہ لینا ضروری تھا۔
وکیل نے یہ بھی پوچھا کہ میر رضا کو آخری لوکیشن کس نے بھیجی تھی۔ انہوں نے متعلقہ نمبر کی شناخت سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔
جے آئی ٹی اور کمیشن کی کارروائی
جبران ناصر نے کہا کہ اہلخانہ نے جے آئی ٹی بنانے کی درخواست دی تھی۔ ان کے مطابق خاندان کا مقصد اصل حقائق اور قاتلوں تک پہنچنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میر رضا کے معاملے پر عدالتی کمیشن کی مدت بڑھانے کی درخواست کی گئی ہے۔
تازہ عدالتی کارروائی کے مطابق میر رضا کیس میں تفتیشی افسر کو حتمی چالان پیش کرنے کے لیے مزید مہلت بھی دی گئی ہے۔
میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن مختلف گواہوں کے بیانات ریکارڈ کر رہا ہے۔ کمیشن نے 22 ستمبر کی سماعت کے لیے بعض افسران کو بھی طلب کیا تھا۔