سلامتی کونسل کے یمن کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی مندوب عبدالعزیز الوصل نے حوثی باغیوں کے حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں کے حملے الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ ایک منظم اور جارحانہ پالیسی کا تسلسل ہیں۔
حوثیوں کی کارروائیوں پر سعودی عرب کا مؤقف
عبدالعزیز الوصل نے کہا کہ حوثی ملیشیا 2014 سے یمن کی حکومت کے خلاف بغاوت کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حوثیوں کی حکمت عملی میں شہریوں اور معاشی تنصیبات کو نشانہ بنانا شامل ہے۔
سعودی مندوب نے کہا کہ حوثی دھمکیوں اور طاقت کے ذریعے اپنے مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی کارروائیاں یمن کے اندر وسیع اور مربوط کشیدگی کا حصہ ہیں۔
سعودی عرب اور اس کے وسائل بھی نشانے پر رہے
عبدالعزیز الوصل کے مطابق حوثیوں کی کارروائیوں کا آغاز یمن کے اندر فوجی کشیدگی سے ہوا۔ بعد میں ان حملوں کا دائرہ سعودی عرب، اس کے شہریوں اور مقیم افراد تک پھیل گیا۔
انہوں نے کہا کہ حوثیوں نے سعودی وسائل کو بھی نشانہ بنایا۔ سعودی مندوب نے ان کارروائیوں کو خطے میں جاری کشیدگی کا اہم حصہ قرار دیا۔
بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں پر تشویش
سعودی مندوب نے بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حوثیوں کے حملوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا اور عملے کو دھمکیاں دینا انتہائی سنگین اقدام ہے۔ ان کے مطابق ایسے حملوں سے بحیرہ احمر اور باب المندب میں آزادانہ بحری آمدورفت کو خطرہ لاحق ہے۔