یومِ بحریہ 8 ستمبر 2026 کے موقع پر پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نشانِ امتیاز، نشانِ امتیاز (ملٹری)، تمغۂ بسالت نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ قوموں کی پہچان ان کے جغرافیے، حجم یا وسائل سے نہیں بلکہ عزم، حوصلے اور شجاعت سے ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے وقت پاک بحریہ کو محدود وسائل اور آپریشنل صلاحیتوں کا سامنا تھا۔ اس کے باوجود فورس نے دفاعِ وطن کے عزم کو مضبوط رکھا۔
پاک بحریہ نے اپنے جوانوں میں قربانی، پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کا جذبہ پروان چڑھایا۔ ساتھ ہی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔
آپریشن سومنات اور 1965 کی جنگ
1965 کی جنگ میں پاک بحریہ نے آپریشن سومنات کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس کارروائی میں دوارکا میں دشمن کی ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ آپریشن سومنات صرف ایک کامیاب بحری کارروائی نہیں تھی۔ یہ پاک بحریہ کی حکمتِ عملی، جارحانہ صلاحیت اور عزم کا عملی ثبوت بھی تھی۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن سومنات پاکستان کی تاریخ کا لازوال باب ہے۔ یہ قومی خودمختاری اور دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کی علامت ہے۔
آبدوز غازی سے ہنگور کلاس تک
انہوں نے کہا کہ 1965 کی جنگ میں پاک بحریہ کی آبدوز غازی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس کی صلاحیتوں نے پاکستان کی زیرِ آب دفاعی قوت کی اہمیت اجاگر کی۔
ایڈمرل نوید اشرف کے مطابق یہ ورثہ اب جدید دور میں داخل ہو چکا ہے۔ ہنگور کلاس آبدوزوں کی شمولیت پاک بحریہ کی جدید دفاعی صلاحیتوں میں اہم اضافہ ہے۔
پاک بحریہ بدلتے ہوئے آپریشنل تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتیں بڑھا رہی ہے۔ نئے بحری جہازوں کی شمولیت بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
شہدا اور غازیوں کو خراجِ عقیدت
ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ پاک بحریہ کے شہدا اور غازیوں کی قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی شجاعت نے ملکی بحری سرحدوں کی خودمختاری اور دفاع کو مضبوط بنایا۔
انہوں نے کہا کہ غازی سے ہنگور تک پیغام واضح ہے۔ پاکستان کے دفاع کے لیے شجاعت، عزم اور قربانی کی روایت ہمیشہ قائم رہے گی۔
پاک بحریہ کے سربراہ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔
پاکستان نیوی زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔