...

جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی کے مقدمات، سندھ پولیس کی نئی گائیڈ لائنز

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی کے مقدمات کی تفتیش بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے نئی ایس او پی اور چیک لسٹ صوبے بھر میں نافذ کرنے کی ہدایت کی۔

خصوصی تقریب کا انعقاد

سینٹرل پولیس آفس کراچی کے ابراہیم ہال میں اس حوالے سے ایک خصوصی تقریب ہوئی۔ تقریب کا عنوان ’’شادی کے نام پر جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی کی روک تھام‘‘ تھا۔

لیگل ایڈ سوسائٹی، قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال اور سندھ پولیس نے تقریب کا مشترکہ اہتمام کیا۔

تقریب میں آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو سمیت متعدد افسران اور حکام نے شرکت کی۔ ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ شرجیل کھرل بھی تقریب میں موجود تھے۔

چیئرپرسن قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال عائشہ رضا فاروق اور رکن سندھ اسمبلی مہیش کمار نے بھی شرکت کی۔

ڈی آئی جیز ہیڈکوارٹرز، کرائم اینڈ انویسٹی گیشنز اور ٹریننگ بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ ایس ایس پیز ساؤتھ اور انویسٹی گیشن نے بھی شرکت کی۔

محکمہ ترقی نسواں، سندھ چائلڈ رائٹس اتھارٹی اور لیگل ایڈ سوسائٹی کے نمائندے بھی موجود تھے۔ پراسیکیوشن، انسانی حقوق کے اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

مقدمات کی تفتیش کے لیے نئی ایس او پی

شرکاء کو مشترکہ آپریشنل گائیڈ اور چیک لسٹ پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں مقدمات کی تفتیش سے متعلق اہم امور بیان کیے گئے۔

حکام کے مطابق جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی کے مقدمات کے لیے جامع ایس او پی تیار کی گئی ہے۔ چیک لسٹ بھی اسی مقصد کے لیے مرتب کی گئی ہے۔

نئی ایس او پی میں مختلف صوبائی قوانین کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں نے اس کی تیاری میں مشاورت کی۔

پولیس، عدلیہ اور پراسیکیوشن نے بھی اس عمل میں تعاون کیا۔ انسانی حقوق کے ادارے اور سول سوسائٹی بھی مشاورت کا حصہ رہے۔

بچوں کے حقوق کا تحفظ

شرکاء کے مطابق نئی ایس او پی کا مقصد بچوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔ اس کا مقصد تفتیشی خامیوں کو بھی ختم کرنا ہے۔

گائیڈ لائنز پراسیکیوشن کے عمل کو مزید مؤثر بنانے میں مدد دیں گی۔ تمام اضلاع میں ایک یکساں طریقہ کار اپنانے کی کوشش کی جائے گی۔

تفتیشی افسران کو حساس معاملات میں واضح رہنمائی بھی فراہم کی جائے گی۔ افسران مقدمات کی تفتیش قانون کے مطابق کریں گے۔

آئی جی سندھ کی ہدایات

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے نئی ایس او پی کو صوبے بھر میں نافذ کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ضروری کارروائی جلد مکمل کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ تفتیشی افسران کے لیے واضح رہنما اصول ضروری ہیں۔ ان اصولوں سے قانونی پیچیدگیوں کو کم کیا جا سکے گا۔

جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ نئی گائیڈ لائنز پولیس کارروائی کو یکساں بنائیں گی۔ ان سے ایسے مقدمات میں حساس اور مؤثر تفتیش میں مدد ملے گی۔

آئی جی سندھ نے ایس او پی کی تیاری میں تعاون کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

سندھ پولیس متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔ مقصد قانون کی مؤثر عملداری اور متاثرہ بچوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.