جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے تین اہم مطالبات رکھ دیے ہیں۔ ان میں پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ، آئی پی پیز کے معاہدوں کا خاتمہ اور بجلی کی قیمتوں میں کمی شامل ہیں۔
یہ مطالبات جماعت اسلامی کی ملک گیر ہڑتال کے دوران سامنے آئے۔ حکومتی وفد مذاکرات کے لیے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ پہنچا۔
دونوں فریقوں نے عوامی مسائل اور معاشی ریلیف پر بات چیت کی۔ مذاکرات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی زیر بحث آئیں۔
حکومتی وفد منصورہ پہنچ گیا
حکومتی وفد میں سینیٹر رانا ثنا اللہ خان شامل تھے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال بھی وفد کا حصہ تھے۔
خواجہ سلمان رفیق نے بھی مذاکرات میں شرکت کی۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن بھی اجلاس میں موجود تھے۔
جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت نائب امیر لیاقت بلوچ نے کی۔ فراست شاہ، نصراللہ رندھاوا اور ضیاء الدین انصاری بھی شریک ہوئے۔
نوید علی بیگ نے بھی مذاکرات میں حصہ لیا۔
جماعت اسلامی کے مطالبات
لیاقت بلوچ نے حکومتی کمیٹی کے سامنے جماعت اسلامی کے مطالبات پیش کیے۔
جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ جماعت اسلامی کے مطابق لیوی عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہی ہے۔
جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے معاہدے ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ پارٹی نے بجلی کی قیمتوں میں کمی پر بھی زور دیا۔
روٹی کی قیمت کم کرنے کا مطالبہ بھی مذاکرات میں پیش کیا گیا۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ عوام کو فوری معاشی ریلیف دینا ضروری ہے۔
حکومت نے مطالبات پر جواب دیا
حکومتی کمیٹی نے جماعت اسلامی کے مطالبات کو سنا۔ حکومتی نمائندوں نے انہیں قابل غور قرار دیا۔
حکومتی وفد نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی حالات سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس لیے قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کو دیکھ کر کرنا ہوگا۔
حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
احسن اقبال کی مشترکہ پریس بریفنگ
مذاکرات کے بعد حکومتی وفد اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس بریفنگ کی۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی میں کمی کی تجاویز دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ان تجاویز کا جائزہ لے گی۔ ان کے مطابق عام آدمی کو مسلسل ریلیف دینا حکومت کی ترجیح ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت عوام کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہے۔ حکومت معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔
ملک گیر ہڑتال کے دوران مذاکرات
جماعت اسلامی نے 3 ستمبر کو پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی کال دی تھی۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے اس ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔
جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور آئی پی پیز سے متعلق اپنے مطالبات کو احتجاج کا اہم حصہ قرار دیا۔ پارٹی نے بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا بھی مطالبہ کیا۔
ہڑتال کے بعد جماعت اسلامی نے حکومت پر مطالبات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے احتجاجی تحریک کو مزید آگے بڑھانے کے مختلف آپشنز بھی زیر غور ہیں۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات میں عوامی ریلیف بنیادی موضوع رہا۔ دونوں فریقوں کے درمیان مزید مشاورت کا امکان ہے۔