میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن میں اہم گواہوں کے بیانات مکمل کرلیے گئے۔ ڈرائیور احسان اللہ، بزنس پارٹنرز محمد عبداللہ اور محمد احمد جبکہ ڈی ایس پی ارشد آفریدی نے کمیشن کے سامنے بیانات ریکارڈ کرائے۔ کارروائی 7 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔
بزنس پارٹنر سے مالی معاملات پر سوالات
سماعت کے دوران جسٹس عمر سیال نے بزنس پارٹنر محمد احمد سے کاروبار کے مالی معاملات پر سوالات کیے۔
محمد احمد نے بتایا کہ جولائی میں اکاؤنٹنٹ مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل کاروبار کے مالی معاملات دونوں پارٹنرز خود دیکھتے تھے۔
جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ کیا کاروبار فروخت کرنے کا کبھی ارادہ تھا؟ محمد احمد نے جواب دیا کہ کاروبار فروخت کرنے کا کبھی نہیں سوچا۔
ڈرائیور سے میر رضا کی نقل و حرکت پر پوچھ گچھ
کمیشن نے ڈرائیور احسان اللہ سے میر رضا کو لے جانے اور چھوڑنے سے متعلق سوالات کیے۔
احسان اللہ نے بتایا کہ اسے سہ پہر 3 بج کر 57 منٹ پر پیغام موصول ہوا۔ اس نے 4 بج کر 28 منٹ پر میر رضا کو چھوڑا۔
ڈی ایس پی ارشد آفریدی سے معطلی پر سوال
جسٹس عمر سیال نے ڈی ایس پی ارشد آفریدی سے پوچھا کہ انہوں نے اہلخانہ کو خودکشی کی اطلاع کیوں دی۔
ارشد آفریدی نے جواب دیا کہ انہوں نے خودکشی کی اطلاع نہیں دی تھی۔
جسٹس عمر سیال نے ان سے معطلی کی وجہ بھی دریافت کی۔ ڈی ایس پی نے بتایا کہ ڈی آئی جی نے انہیں معطل کیا اور شوکاز نوٹس بھی جاری کیا ہے۔
بزنس پارٹنر کا پولیس پر الزام
میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد عبداللہ نے بتایا کہ وہ میر رضا کی والدہ کی اجازت سے کمرے میں گئے تھے۔
عبداللہ نے الزام عائد کیا کہ پولیس سے تعاون کے باوجود انہیں 36 گھنٹے حبس میں رکھا گیا۔
مزید پولیس افسران کے بیانات پیر کو ہوں گے
جوڈیشل کمیشن نے ایس ایچ او کامران قریشی اور ہیڈ محرر زیشان کو بھی پیر کو طلب کرلیا ہے۔
کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے رازق، حیثم اور ایس ایچ او عدیل افضال کے بیانات ریکارڈ نہ ہونے پر معذرت کی۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ افراد صبح سے موجود تھے۔ تاہم وقت کی کمی کے باعث ان کے بیانات پیر کو ریکارڈ کیے جائیں گے۔
جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کیس کی مزید کارروائی 7 ستمبر تک ملتوی کردی۔