امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں بعض فوجی یونٹس کی تعیناتی مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے تعیناتیوں میں توسیع کی منظوری دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی بحری اور فضائی یونٹس خطے میں موجود رہیں گے۔
مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔
امریکی فوج خطے میں مختلف اہم مشنز انجام دے رہی ہے۔
ان میں ایرانی میزائلوں کو روکنا اور تجارتی جہازوں کی حفاظت شامل ہے۔
امریکی فورسز آبنائے ہرمز سے متعلق کارروائیوں میں بھی مصروف ہیں۔
طویل تعیناتی سے امریکی فوجی وسائل پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
فوجی اہلکاروں کی مسلسل تعیناتی سے تیاری اور لاجسٹکس بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
انتخابات تک کشیدگی محدود رکھنے کی کوشش
رائٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض اعلیٰ معاونین ایران کے ساتھ جنگ میں فوری توسیع نہیں چاہتے۔
رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات تک کشیدگی محدود رکھنا چاہتی ہے۔
امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ جنگ کے باعث ریپبلکن پارٹی کو انتخابی نقصان ہو سکتا ہے۔
اسی لیے انتظامیہ ایران پر فوجی دباؤ کے بجائے اقتصادی دباؤ بڑھانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق انتخابات کے بعد ایران کے خلاف کارروائی میں شدت آنے کا امکان بھی زیر بحث ہے۔
تاہم امریکی حکام کی پالیسی میں فوجی اور سفارتی دونوں راستے بدستور زیر غور ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا مقصد بھی واشنگٹن کو مزید آپشنز فراہم کرنا ہے۔