روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس ایشیا پیسیفک کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی روابط مزید مضبوط کرے گا۔
انہوں نے ایشیا پیسیفک کو عالمی اقتصادی ترقی کا اہم مرکز قرار دیا۔
پوتن نے کہا کہ روس خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ یکم جنوری 2027 سے دورِ مشرق اور آرکٹک میں نیا ترجیحی نظام نافذ ہوگا۔
نئے نظام کے تحت سرمایہ کاروں کو مراعات حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔
حکومت غیر ضروری انتظامی اور بیوروکریٹک رکاوٹیں بھی کم کرے گی۔
روسی صدر کے مطابق گزشتہ 11 برسوں میں دورِ مشرق میں تقریباً 25 ٹریلین روبل کی سرمایہ کاری ہوئی۔
اس عرصے میں خطے کی مجموعی علاقائی پیداوار تین گنا سے زیادہ بڑھی ہے۔
پوتن نے کہا کہ موجودہ نتائج ترقیاتی حکمت عملی کی کامیابی ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے اگلے 10 برسوں میں ترقی کی رفتار مزید بڑھانے پر زور دیا۔
روسی صدر کے مطابق دورِ مشرق اور آرکٹک میں کئی اقتصادی اشاریے قومی اوسط سے بہتر ہیں۔
انہوں نے خطے کی جغرافیائی پوزیشن کو بھی بڑا مسابقتی فائدہ قرار دیا۔
روزگار اور صنعتی ترقی
پوتن نے بتایا کہ دورِ مشرق میں بے روزگاری تقریباً 2.2 فیصد رہ گئی ہے۔
ان کے مطابق گزشتہ برسوں میں بے روزگاری کی شرح چار گنا کم ہوئی۔
نئی صنعتوں اور سرمایہ کاری سے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔
روسی صدر نے قدرتی وسائل کی مقامی سطح پر پراسیسنگ پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ خام مال صرف برآمد کرنے کے بجائے مقامی صنعت کو فروغ دینا چاہیے۔
پوتن نے دھات سازی، گیس اور پیٹروکیمیکل شعبوں میں مکمل پیداواری سلسلے بنانے کی حمایت کی۔
ان کے مطابق اس سے نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
اس کے ساتھ علاقائی معیشتوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔
ڈرون اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی
پوتن نے یکم جنوری 2027 سے ڈرونز کے لیے خصوصی قانونی نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا۔
یہ نظام دورِ مشرق میں بغیر پائلٹ نظاموں کے استعمال پر لاگو ہوگا۔
انہوں نے نئی ٹیکنالوجی کی آزمائش اور عملی استعمال تیز کرنے پر زور دیا۔
روسی صدر نے سامان کی ترسیل کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی بڑھانے کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے جدید بغیر پائلٹ ٹرانسپورٹ نظام قائم کرنے پر بھی زور دیا۔
پوتن نے کہا کہ 2030 تک کوانٹم کمیونیکیشن نیٹ ورک کو اہم مراکز تک پہنچانا چاہیے۔
شمالی سمندری راستہ
روسی صدر نے شمالی سمندری راستے کو مستقبل کی اقتصادی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا۔
انہوں نے رواں دہائی کے اختتام تک سالانہ مال برداری 70 ملین ٹن تک پہنچانے کا ہدف دیا۔
یہ مقدار موجودہ سطح کے مقابلے میں تقریباً دو گنا ہوگی۔
پوتن نے جدید آئس بریکرز اور بندرگاہوں کی تعمیر پر بھی زور دیا۔
انہوں نے آرکٹک کے بنیادی ڈھانچے کو مزید ترقی دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کے مطابق اس سے یورپ اور ایشیا کے درمیان روس کی لاجسٹک اہمیت بڑھے گی۔
ایشیائی ممالک سے تعاون
پوتن نے چین، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک سے تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔
انہوں نے تجارت، توانائی، صنعت اور ٹرانسپورٹ میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
روسی صدر نے کہا کہ سرمایہ کاری میں بھی باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
ان کے مطابق دورِ مشرق کو صرف قدرتی وسائل کا مرکز نہیں رہنا چاہیے۔
انہوں نے اسے جدید صنعت اور ٹیکنالوجی کا مرکز بنانے کا عزم ظاہر کیا۔
پوتن نے اعلیٰ معیار زندگی اور عالمی تجارت کے فروغ کو بھی اہم قرار دیا۔
ولادی ووستوک میں ہونے والے اجلاس میں متعدد ایشیائی ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
شرکا میں انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو اور منگولیا کے وزیراعظم نیام اوسورین اوچرل شامل تھے۔
میانمار کے فرسٹ نائب صدر نیو سا اور چین کے نائب وزیراعظم ڈنگ شوئی شیانگ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
گیارہواں ایسٹرن اکنامک فورم یکم سے 4 ستمبر تک روسی جزیرے پر جاری ہے۔
فورم کا مرکزی موضوع ’’دورِ مشرق، عوام کی فلاح کے لیے ترقی‘‘ رکھا گیا ہے۔