کراچی: اے وی سی سی/سی آئی اے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ اغوا برائے تاوان کیس کا ڈراپ سین کردیا۔ پولیس کے مطابق 45 سالہ عمران رفیق کو پنجاب کے ضلع فیصل آباد سے بازیاب کرالیا گیا، جس نے خود اپنے اغوا کا ڈراما رچانے کا اعتراف کیا۔
پولیس کے مطابق عمران رفیق 18 اگست کو کام کے لیے گھر سے نکلا تھا، لیکن واپس نہیں آیا۔ 20 اگست کو اس نے واٹس ایپ کے ذریعے اپنی اہلیہ سے رابطہ کیا اور دعویٰ کیا کہ نامعلوم افراد نے اسے اغوا کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق عمران نے اپنی اہلیہ کو بتایا کہ مبینہ اغوا کار اس سے 60 لاکھ روپے لے چکے ہیں اور رہائی کے لیے مزید 3 کروڑ روپے تاوان مانگ رہے ہیں۔
واقعے کا مقدمہ تھانہ شاہ فیصل کالونی میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 365-A اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 شامل کی گئی، جبکہ تحقیقات بعد ازاں اے وی سی سی/سی آئی اے کراچی منتقل کردی گئیں۔
ایس ایس پی اے وی سی سی/سی آئی اے کراچی نے انسپکٹر فرحان سومرو کی سربراہی میں پولیس ٹیم تشکیل دی۔ ٹیم نے تکنیکی ذرائع اور انسانی انٹیلی جنس کی مدد سے فیصل آباد میں کارروائی کی اور عمران رفیق کو بازیاب کرلیا۔
پولیس کے مطابق بازیابی کے بعد عمران رفیق نے بتایا کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا تھا۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ ٹھیکیداری کا کام کرتا ہے اور مختلف ٹھیکوں کی مد میں رقم حاصل کرچکا تھا، جو خرچ ہوگئی۔
عمران رفیق کے مطابق مالی مشکلات کے باعث اس نے اپنے اغوا کا ڈراما رچایا اور اہل خانہ سے تاوان کا مطالبہ کروایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔