سعودی دفاعی معاہدہ ایرانی رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ نیا معاہدہ تحفظ کی ضمانت نہیں

ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی اینڈ فارن پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے سعودی دفاعی معاہدہ پر تنقید کی ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ابراہیم رضائی نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ نیا معاہدہ سعودی عرب کی مکمل حفاظت کی ضمانت نہیں دیتا۔

ان کے مطابق سعودی عرب نے کئی دہائیوں تک امریکا پر انحصار کیا۔ اس کے باوجود اسے مطلوبہ تحفظ حاصل نہیں ہوسکا۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ نے سعودی حکام کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو تحفظ کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی حکام نے سی این این کو بتایا کہ ملک کو عراق اور یمن کی ایران نواز ملیشیاؤں سے حملوں کا خطرہ ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا معاہدہ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے حال ہی میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔

مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس ہوا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں شرکت کی۔

دفتر خارجہ کے مطابق تینوں رہنماؤں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کا مقصد دفاعی تعاون اور مشترکہ سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!