پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پی پی پی یونٹ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری قاسم نوید، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نئی کمپنی منصوبہ بندی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کے مطابق اس اقدام سے صوبے میں زیادہ خودمختار، سرمایہ کاری پر مبنی اور مؤثر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ نظام قائم کیا جائے گا۔
اجلاس میں پی پی پی یونٹ کی ادارہ جاتی تنظیمِ نو پر بھی غور کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام پاکستان کا کامیاب ترین صوبائی ماڈل بن چکا ہے، جس کے تحت سڑکوں، پلوں، ٹرانسپورٹ، آئی ٹی، توانائی، پانی، تعلیم، صحت اور ماحولیات سمیت مختلف شعبوں میں متعدد منصوبے جاری ہیں۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ سندھ کے پی پی پی پروگرام کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی ہے، جبکہ یہ یونٹ دیگر صوبوں کو منصوبہ بندی، قانونی اور تکنیکی معاونت بھی فراہم کرتا رہا ہے۔
بریفنگ کے مطابق پی پی پی یونٹ کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کا درجہ دینے سے منصوبوں کی تشہیر، سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے، نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے اور ادارہ جاتی استعداد بڑھانے میں مدد ملے گی۔ مجوزہ کمپنی کو سرمایہ کاری اور مالی وسائل کے انتظام میں بھی زیادہ لچک حاصل ہوگی۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ موجودہ ادارہ محدود مراعات کے باعث ماہر افرادی قوت کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ بعض محکموں میں پراجیکٹ ڈائریکٹرز اور عملدرآمد یونٹس کی کمی سے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ انتظامی رکاوٹیں دور کی جائیں، ماہر افرادی قوت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، صوبائی محکموں کے پی پی پی یونٹس کو مزید فعال بنایا جائے اور منصوبوں کی منظوری و تکمیل کے عمل کو تیز کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کی تیاری اور عملدرآمد میں تسلسل برقرار رکھنے، بروقت تکنیکی، مالیاتی اور قانونی معاونت فراہم کرنے اور شفافیت و احتساب کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔