انسانی اسمگلنگ کے شبے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن کراچی نے عمرہ ویزا پر سعودی عرب جانے والی ایک خاتون مسافر کو کراچی ایئرپورٹ پر آف لوڈ کر دیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافرہ کی شناخت انعم کے نام سے ہوئی، جو پاکستانی پاسپورٹ پر عمرہ ویزا کے ذریعے سعودی عرب روانہ ہو رہی تھی۔ امیگریشن کلیئرنس کے دوران مشکوک سفری معلومات سامنے آنے پر حکام نے اسے مزید جانچ پڑتال اور انٹرویو کے لیے روک لیا۔
ایف آئی اے کے مطابق دورانِ انٹرویو مسافرہ نے بتایا کہ اس نے سعودی عرب میں مقیم اپنے دوست الیاس سے ویزا کا انتظام کروایا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس سے قبل دو مرتبہ سعودی عرب جا چکی ہے، جہاں ہر بار تقریباً تین ماہ قیام کیا۔
ترجمان کے مطابق مسافرہ نے دعویٰ کیا کہ ماضی کے دونوں سفروں کے انتظامات سعودی عرب میں مقیم زیشان نے کیے تھے، جبکہ دمام میں مانی نامی شخص نے اسے وصول کر کے رہائش کا انتظام کیا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اسے ان سرگرمیوں کے عوض ماہانہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے ملتے تھے اور ویزا و سفر کے اخراجات اسی رقم سے منہا کیے جاتے تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق مسافرہ نے مزید بتایا کہ موجودہ سفر کے تمام انتظامات بھی الیاس نے کیے تھے اور اس مرتبہ وہ کسی ایجنٹ کے بجائے خود کام کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔
ترجمان نے کہا کہ موبائل فون کی جانچ کے دوران متعدد وائس میسجز اور تصاویر بھی برآمد ہوئیں۔ ایف آئی اے کے مطابق مسافرہ نے ابتدائی تفتیش میں سابقہ سرگرمیوں اور موجودہ سفر کے مقصد سے متعلق اعترافی بیان دیا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق معاملہ انسانی اسمگلنگ اور مبینہ تجارتی جنسی استحصال سے متعلق معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی نتائج مزید تفتیش کے بعد سامنے آئیں گے۔
حکام نے مسافرہ کو آف لوڈ کرنے کے بعد مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے حوالے کر دیا۔