آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران نے ایک بار پھر اپنا مؤقف دہرایا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کو اس اہم آبی گزرگاہ میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
تہران میں باقر قالیباف سے چینی پیپلز کانگریس کے نائب صدر نے ملاقات کی۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے سیاسی، اقتصادی اور اسٹریٹیجک تعاون پر تبادلۂ خیال کیا۔
باقر قالیباف نے کہا کہ ایران، چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک باہمی تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور چین کے مضبوط تعلقات خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
باقر قالیباف کے مطابق چین مشکل حالات میں ہمیشہ ایران کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چینی جہازوں کی آمدورفت سے متعلق مسائل حل کر لیے گئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایرانی اسپیکر نے الزام لگایا کہ اسرائیل امریکا کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت دوبارہ جنگ کے امکانات کو کم کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ منظم حکمتِ عملی اور درست سیاسی فیصلے ہی خطے کی کشیدگی کم کر سکتے ہیں۔
چینی پیپلز کانگریس کے نائب صدر نے کہا کہ چین اور ایران کی دوستی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔