مومنہ اقبال ہراسگی کیس، ایم پی اے پر مقدمہ

اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ہفتہ وار مہنگائی میں کمی، 22 اشیا پھر مہنگی

پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

حکام کے مطابق مقدمہ پیکا ایکٹ کے تحت درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں بلیک میلنگ، دھمکیوں اور سائبر ہراسگی کے الزامات شامل ہیں۔

مدعی کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ثاقب چدھڑ اور ان کے بعض ساتھیوں نے مبینہ طور پر دھمکیاں دیں۔ شکایت میں نجی معلومات لیک کرنے کی دھمکی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل شواہد تفتیش کے لیے بھجوا دیے گئے

ایف آئی آر کے مطابق مومنہ اقبال کی بہن نے ایک ویڈیو تفتیشی ادارے کو فراہم کی۔ حکام نے ویڈیو اور موبائل فون کو تحویل میں لے لیا ہے۔

مزید برآں دونوں اشیا کو فرانزک معائنے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ تفتیشی ٹیم ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔

ایف آئی آر میں کیا الزامات شامل ہیں؟

مقدمے کے متن کے مطابق ملزم کے زیر استعمال نمبر سے مبینہ طور پر دھمکی آمیز پیغامات بھیجے گئے۔ ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مومنہ اقبال نے مبینہ طور پر پہلی شادی کا علم ہونے کے بعد رشتہ قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ اس کے بعد بلیک میلنگ اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

مزید تحقیقات جاری

شکایت میں اداکارہ، ان کے شوہر اور اہل خانہ کو دھمکیاں دینے کا بھی الزام شامل ہے۔ غیر قانونی نگرانی اور سائبر ہراسگی کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں۔ تمام الزامات کا قانونی اور تکنیکی بنیادوں پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ مومنہ اقبال نے چند روز قبل ثاقب چدھڑ کے خلاف باضابطہ شکایت درج کروائی تھی۔

One thought on “مومنہ اقبال ہراسگی کیس، ایم پی اے پر مقدمہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!