کراچی میں پانی بحران پر جماعت اسلامی کا احتجاج

کراچی میں پانی کی شدید قلت کے خلاف جماعت اسلامی نے احتجاجی تحریک تیز کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی اور اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ شہر کا 70 سے 80 فیصد حصہ پانی کے شدید بحران کا شکار ہے اور شہری بنیادی ضرورت کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

سندھ میں میٹرک اور انٹر نتائج کی تاریخیں جاری

سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ اگر پانی کا بحران برقرار رہا تو جماعت اسلامی کراچی میں ہڑتال کی کال بھی دے سکتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کل شہر بھر میں پانی کی قلت کے خلاف مظاہرے، دھرنے اور احتجاجی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے، جبکہ میئر کراچی کے دفتر کے باہر بھی احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر شہری علاقوں میں نلوں کے ذریعے پانی فراہم نہیں کیا جا رہا تو ہزاروں واٹر ٹینکرز کو پانی کہاں سے مل رہا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ واٹر ٹینکر مافیا کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے، جس کے باعث بحران بدستور برقرار ہے۔

سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی کراچی کے شہری پانی کے لیے پریشان رہے، جو سندھ حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے مطالبہ کیا کہ شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ پرامن اور منظم احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے اور شہری مسائل کے حل کے لیے آئینی و جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔

سیف الدین ایڈوکیٹ نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو مستقل بنیادوں پر پانی کی فراہمی کے لیے کے فور منصوبہ ایک سال کے اندر مکمل کیا جائے، سندھ حکومت آگمینٹیشن منصوبے کو فوری پایہ تکمیل تک پہنچائے اور حب نہر کے لیے 200 ایم جی ڈی اضافی پانی کا بندوبست کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دھابیجی میں بجلی کے بریک ڈاؤن کے باعث آدھے سے زائد کراچی پانی سے محروم ہو جاتا ہے، لہٰذا ذمہ دار اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور پانی کی فراہمی میں غفلت برتنے والے افسران کو معطل کیا جائے۔

قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی نے زور دیا کہ حکومت سندھ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے کیونکہ شہریوں کو پانی کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

One thought on “کراچی میں پانی بحران پر جماعت اسلامی کا احتجاج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!