کراچی میں پانی چوری کے بڑے نیٹ ورک کا انکشاف، رینجرز اور واٹر کارپوریشن کی مشترکہ کارروائی، غیر قانونی سب سوائل کنکشنز سیل

کراچی (08 مئی 2026):- کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی مرکزی پانی لائن سے میٹھے پانی کی چوری کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے خلاف رینجرز اور واٹر کارپوریشن نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایک منظم غیر قانونی سب سوائل نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔

وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت پی پی پی پالیسی بورڈ کا 52واں اجلاس، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

واٹر کارپوریشن کے میڈیا سیل کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاع پر پاکستان رینجرز اور واٹر کارپوریشن کی مشترکہ ٹیم نے لسبیلا پل کے قریب انجام دی، جہاں 33 انچ قطر کی مرکزی لائن (نیو SBL/CTM) سے پانی چوری کیے جانے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔

کارروائی کے دوران سب سوائل مینجمنٹ ٹیم اور اینٹی تھیفٹ سیل نے شکیل مہر اور ابراہیم کے زیر استعمال تین مشتبہ سب سوائل نیٹ ورکس کی مکمل جانچ پڑتال کی۔ ایک نیٹ ورک کے اندر 50 فٹ گہرے واٹر ٹینک کے نیچے ایک خفیہ سرنگ دریافت ہوئی جو براہ راست واٹر کارپوریشن کی مرکزی لائن سے منسلک تھی۔

اس سرنگ میں 80 ہارس پاور کی ہائی سکشن مشین اور 4 انچ قطر کی پائپ لائن نصب تھی، جس کے ذریعے بڑے پیمانے پر میٹھا پانی غیر قانونی طور پر نکالا جا رہا تھا۔

واٹر کارپوریشن حکام نے موقع پر پانی کے نمونے حاصل کیے جن کا ٹی ڈی ایس (Total Dissolved Solids) 450 ریکارڈ کیا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ پانی سب سوائل نہیں بلکہ واٹر کارپوریشن کی مرکزی لائن سے چوری کیا گیا میٹھا پانی ہے۔ مزید تصدیق کے لیے نمونے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔

بعد ازاں غیر قانونی نیٹ ورک کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا جبکہ ملزمان شکیل مہر اور ابراہیم کے خلاف واٹر کارپوریشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ سب سوائل نیٹ ورک سب سوائل ایسوسی ایشن کے صدر شکیل مہر کی ملکیت ہے، جو نہ صرف متعدد لائسنسز اور بورز کے مالک ہیں بلکہ واٹر کارپوریشن کے بڑے نادہندگان میں بھی شامل ہیں۔ ان پر تقریباً 10 کروڑ روپے کے واجبات بھی بقایا ہیں۔

واٹر کارپوریشن حکام نے کہا ہے کہ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایات کے مطابق شہر بھر میں پانی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق ایسے عناصر جو شہریوں کے حق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ عوام کو ان کے حصے کا پانی منصفانہ اور شفاف انداز میں فراہم کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!