وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیرِ صدارت ادارہ ترقیات کراچی (کے ڈی اے) کی 1200ویں گورننگ باڈی کا اجلاس سوک سینٹر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سرکاری اراضی سے تجاوزات کے خاتمے، ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات، پنشن کی ادائیگی اور ادارے کے مالی وسائل بڑھانے سمیت اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیلام شدہ پلاٹس کے مالکان کو واجبات یکمشت ادا کرنے پر 25 فیصد رعایت دی جائے گی۔ وزیر بلدیات نے سرکاری اراضی پر قبضوں اور سافٹ انکروچمنٹ کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت بھی کی۔
فلاحی پلاٹس کے غیر قانونی استعمال کے خلاف کارروائی
ناصر حسین شاہ نے ہدایت کی کہ کے ڈی اے کے فلاحی پلاٹس کا غیر قانونی استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سافٹ انکروچمنٹ ختم کرکے اس حوالے سے حتمی فہرست تیار کی جائے۔
وزیر بلدیات نے مزید ہدایت کی کہ پلاٹس کی نیلامی سے پہلے تمام تجاوزات ختم کی جائیں۔ متعلقہ قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی زمین نیلامی کے لیے پیش کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پلاٹس کی منصفانہ قیمت کے تعین کے لیے تھرڈ پارٹی سے مارکیٹ ویلیو کا تخمینہ لگوایا جائے۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری اراضی کے شفاف استعمال اور ادارے کی آمدن میں اضافے کو یقینی بنانا ہے۔
ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور واجبات
اجلاس میں کے ڈی اے کی مالی صورتِ حال اور ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی پر بھی گفتگو ہوئی۔ سیکرٹری گورننگ باڈی اور ڈی جی کے ڈی اے زین العابدین انصاری نے وزیر بلدیات کو ادارے کی مالی مشکلات اور ادائیگیوں سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پنشنرز اور ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی ادارے کی ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومتی تعاون سے اس سلسلے میں مزید پیش رفت کی جا سکتی ہے۔
ناصر حسین شاہ نے ہدایت کی کہ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنشن اور واجبات ملازمین کا بنیادی حق ہیں، اس لیے ادائیگیوں میں غیر ضروری تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لیے سندھ حکومت کا تعاون جاری رہے گا۔ وزیر بلدیات نے متعلقہ حکام کو مالی مشکلات کے حل کے لیے قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔
لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن
اجلاس میں کے ڈی اے کے لینڈ ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔ ڈی جی کے ڈی اے زین العابدین انصاری نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے اور جلد اس پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔
ان کے مطابق ڈیجیٹلائزیشن سے زمینوں کا ریکارڈ محفوظ بنانے، معلومات تک رسائی بہتر کرنے اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال میں سہولت ملے گی۔ اس سے ادارے کے انتظامی امور میں شفافیت لانے میں بھی مدد ملے گی۔
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مالی مسائل کے حل، ملازمین اور پنشنرز کے حقوق کے تحفظ، سرکاری اراضی کے بہتر انتظام اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے کے ڈی اے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں گورننگ باڈی کے ارکان علی احمد جان اور محمد یوسف بلوچ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری لوکل گورنمنٹ ڈاکٹر وسیم احمد شمشاد، کمشنر کراچی حسن نقوی، ممبر ٹیکنیکل عبدالصمد جملانی، ممبر فنانس نوید انور صدیقی اور ممبر ایڈمنسٹریشن فرید شیخ بھی شریک ہوئے۔
Very good info. Lucky me I found your website by chance (stumbleupon).
I’ve bookmarked it for later!