متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کے ایم سی اور کراچی کے ٹاؤنز کے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔
24 ستمبر کو بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 10 ہزار سے زائد ریٹائرڈ ملازمین ایک دہائی سے اپنے واجبات سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے 15 ستمبر 2026 کو اس معاملے پر فیصلہ دیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ
فاروق ستار کے مطابق عدالت نے کے ایم سی اور کراچی کے 25 ٹاؤنز کے متعلقہ حکام کو ملازمین کے واجبات کا حساب مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت نے پنشن، پراویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی اور لیو انکیشمنٹ کی ادائیگی 60 دن میں یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
ان کے مطابق چیف سیکریٹری سندھ سمیت متعلقہ حکام کو مالی ریکارڈ کی ری کنسلی ایشن مکمل کرکے واجب الادا رقم کا تعین کرنا ہوگا۔
کے الیکٹرک ٹیرف: نیپرا نے 19 فیصد کمی برقرار رکھ لی
پنشن کو ملازمین کا قانونی حق قرار دیا
فاروق ستار نے کہا کہ پنشن اور ریٹائرمنٹ کے دیگر واجبات ملازمین کا قانونی حق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کو ادائیگی میں تاخیر کی وجہ نہیں بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق کے ایم سی اور ٹاؤن انتظامیہ کو اپنے بجٹ میں ترجیحات طے کرکے واجبات کی ادائیگی یقینی بنانی چاہیے۔
ایم کیو ایم رہنما نے میئر کراچی اور بلدیاتی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ ملازمین کو طویل عرصے تک واجبات نہ ملنا انتظامی مسئلہ ہے۔

تھانہ بریگیڈ کے واقعے پر بھی ردعمل
پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی فیصل رفیق نے تھانہ بریگیڈ میں ایک خاندان اور وکیل کے ساتھ مبینہ پولیس تشدد پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے واقعے کی فوری انکوائری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ایم کیو ایم پاکستان کی قانونی کمیٹی اور لیبر ڈویژن نے ریٹائرڈ ملازمین کے معاملے پر قانونی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔
پارٹی رہنماؤں کے مطابق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں توہینِ عدالت سے متعلق قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
نوٹ: واجبات کی ادائیگی اور دیگر الزامات سے متعلق تفصیلات میں ایم کیو ایم رہنماؤں کا مؤقف شامل ہے۔ عدالتی فیصلے کے مکمل متن یا متعلقہ سرکاری ریکارڈ کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں شامل نہیں ہے۔