نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے الیکٹرک کے اوسط بنیادی ٹیرف میں 19 فیصد کمی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ اپیلیٹ ٹربیونل کی جانب سے کمپنی کی اپیل مسترد ہونے کے بعد نیپرا نے نظرثانی شدہ فیصلہ باضابطہ طور پر جاری کردیا۔
فیصلے کے تحت کے الیکٹرک کا اوسط بنیادی ٹیرف 32.37 روپے فی یونٹ برقرار رہے گا۔ تاہم اس فیصلے سے کراچی کے تقریباً 35 لاکھ صارفین کے بجلی بلوں میں براہِ راست کمی نہیں ہوگی۔
ٹیرف 39.97 روپے سے کم کرکے 32.37 روپے کیا گیا
نیپرا کے مطابق کے الیکٹرک کا ملٹی ایئر ٹیرف مالی سال 2023-24 سے 2029-30 تک کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
اتھارٹی نے ابتدائی طور پر کمپنی کا اوسط ٹیرف 39.97 روپے فی یونٹ مقرر کیا تھا۔ کے الیکٹرک اور دیگر متعلقہ فریقوں نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستیں دائر کیں۔
نیپرا نے 20 اکتوبر 2025 کو ان درخواستوں پر فیصلے کرتے ہوئے اوسط ٹیرف 39.97 روپے سے کم کرکے 32.37 روپے فی یونٹ کردیا۔
اس طرح اوسط بنیادی ٹیرف میں 7.60 روپے فی یونٹ، یعنی تقریباً 19 فیصد کمی ہوئی۔
آپریشن غضب للحق: افغانستان میں 10 مقامات پر جوابی کارروائی
اپیلیٹ ٹربیونل نے کمپنی کی اپیل مسترد کردی
کے الیکٹرک نے 32.37 روپے فی یونٹ کے نظرثانی شدہ ٹیرف کو اپیلیٹ ٹربیونل میں چیلنج کیا تھا۔
تقریباً 11 ماہ کی کارروائی کے بعد ٹربیونل نے کمپنی کی اپیل مسترد کردی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں نیپرا کا کم کیا گیا ٹیرف برقرار رہا۔
نیپرا نے اب 20 اکتوبر 2025 کے نظرثانی فیصلے کو باضابطہ طور پر نوٹیفائی کردیا ہے۔
نئے ٹیرف میں مختلف اخراجات شامل
نیپرا کے مطابق 32.37 روپے فی یونٹ کے اوسط ٹیرف میں بجلی کی خریداری کی لاگت تقریباً 27.83 روپے شامل ہے۔
ترسیل کے اخراجات 2.40 روپے جبکہ تقسیم کے اخراجات 2.90 روپے فی یونٹ ہیں۔ سپلائی کے اخراجات میں تقریباً 0.78 روپے فی یونٹ کی کریڈٹ رقم بھی شامل کی گئی ہے۔
ٹیرف اضافے کا پس منظر
اس معاملے کا پس منظر نیپرا کے 27 مئی 2025 کے فیصلے سے جڑا ہے۔ اس فیصلے میں کے الیکٹرک کے ٹیرف میں 6.15 روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی گئی تھی۔
اضافے کے بعد کمپنی کا اوسط ٹیرف 39.97 روپے فی یونٹ مقرر ہوا تھا۔ بعد میں مختلف فریقوں کی نظرثانی درخواستوں پر نیپرا نے اس ٹیرف میں کمی کردی۔
کے الیکٹرک نے نظرثانی شدہ فیصلے کو اپیلیٹ ٹربیونل میں چیلنج کیا، تاہم اپیل مسترد ہونے کے بعد 32.37 روپے فی یونٹ کا اوسط بنیادی ٹیرف برقرار رہا۔

