اسلام آباد: پاکستان نے کہا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان میں 10 مختلف مقامات پر جوابی کارروائی کی گئی۔ کارروائی میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور معاون انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر کارروائی کی تفصیلات بیان کیں۔ ان کے مطابق پاک فوج نے درست فضائی اور ڈرون کارروائیاں کیں۔
10 مقامات پر کارروائی
عطا اللہ تارڑ کے مطابق افغان طالبان حکومت کے زیرکنٹرول علاقوں میں 10 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان مقامات پر دہشتگردوں کے ٹھکانے اور معاون انفرااسٹرکچر موجود تھا۔
انہوں نے کہا کہ کارروائی میں ڈرون لانچ کرنے اور انہیں ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے مراکز بھی تباہ کیے گئے۔
جاری کی گئی ویڈیو میں فضائی اور ڈرون حملوں کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔
سندھ کی تقسیم: شرجیل میمن کا نئے صوبوں کی مخالفت کا اعلان
حالیہ ڈرون دراندازی سے تعلق کا دعویٰ
پاکستانی حکام کے مطابق نشانہ بنائے گئے مقامات کا تعلق پاکستان میں شہریوں کے خلاف ہونے والی دہشتگرد کارروائیوں سے تھا۔
حکام نے ان مقامات کو 23 ستمبر کی مبینہ ڈرون دراندازی سے بھی منسلک کیا ہے۔ پاکستان کے مطابق اس دراندازی کی کوشش ناکام بنادی گئی تھی۔
علاقائی سالمیت کے دفاع کا اعلان
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق شہریوں کی جان و مال کا تحفظ بھی ترجیح ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق بیرونی سرپرستی یا پناہ حاصل کرنے والے دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔
حکومت کی جانب سے بیان کردہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں شامل نہیں ہے۔

