ٹرمپ کا یوکرین کی فوجی امداد روکنے کا فیصلہ: عالمی ردعمل اور ممکنہ نتائج

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے لیے فوجی امداد روکنے کا اعلان کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام یوکرین کو امن کے لیے زیادہ مؤثر اقدامات کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے روس کو مزید جارحیت کا موقع ملے گا۔
اسلام آباد عدالت کا فیصلہ، پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت کی درخواستیں خارج

امریکی حکام کے مطابق، یوکرین کو دی جانے والی امداد کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ امداد کسی سیاسی حل کا حصہ بن رہی ہے۔ تاہم، وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا کہ یہ امداد کب تک معطل رہے گی۔

ڈیموکریٹس نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ سینیٹر جین شاہین کا کہنا ہے کہ امداد منجمد کر کے صدر ٹرمپ نے پیوٹن کے لیے یوکرین کے خلاف مزید جارحیت کے دروازے کھول دیے ہیں۔ فرانس کے جونیئر وزیر برائے یورپ بینجمن حداد نے بھی اس فیصلے کو روس کے حق میں اور امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے فوری طور پر اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا، تاہم یوکرین کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ اقدام کیف کو روس کے مطالبات ماننے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔

دوسری جانب، ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ یوکرین کی معدنیات کو امریکی سرمایہ کاری کے لیے کھولنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین کو حقیقی سیکیورٹی چاہیے تو اسے امریکی سرمایہ کاری کو قبول کرنا ہوگا۔

یورپی ممالک اس معاملے میں زیادہ متحرک ہو رہے ہیں، اور بعض ممالک یوکرین میں امن معاہدے کی صورت میں فوج بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، حالانکہ روس نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

61 / 100

One thought on “ٹرمپ کا یوکرین کی فوجی امداد روکنے کا فیصلہ: عالمی ردعمل اور ممکنہ نتائج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!