کراچی میں ڈاکو بے قابو ہو گئے، رواں ماہ کے 20 دنوں میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے حاملہ خاتون سمیت 8 شہری جاں بحق ہو گئے، جبکہ رواں سال کے دوران قتل ہونے والے شہریوں کی تعداد 13 ہو گئی۔
تھانہ عوامی پولیس کی شاندار کارروائی: 52 لاکھ ڈکیتی کا کیس حل، 3 ملزمان گرفتار
ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر شہریوں کے قتل کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔ یکم فروری کو کورنگی صنعتی ایریا میں دکاندار امیر خان کو لوٹ مار کے دوران قتل کیا گیا، جبکہ اسی روز سرجانی ٹاؤن میں ارشد حسین جان سے گئے۔ 4 فروری کو سولجر بازار میں ڈاکوؤں نے مزاحمت پر طاہر بزنجو کو قتل کر دیا، جس کا کزن زخمی ہوا جبکہ ایک ڈاکو اپنے ہی ساتھی کی گولی سے مارا گیا۔ اسی دن موچکو میں زیورات چھیننے کے دوران مزاحمت پر حاملہ خاتون کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا گیا۔
7 فروری کو کورنگی میں سعید اللہ کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، تاہم شہریوں نے ایک ڈاکو کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ 11 فروری کو سائٹ سپر ہائی وے پر پولیس مقابلے کے دوران ڈاکوؤں کی گولی لگنے سے شہری طارق جان بحق ہوا۔ 12 فروری کو لانڈھی میں ڈاکوؤں نے نوجوان عبداللہ کو قتل کر دیا، جبکہ 19 فروری کو اتحاد ٹاؤن میں فائرنگ سے زخمی ہونے والا عمر 20 فروری کو دم توڑ گیا۔
رواں سال کے پہلے مہینے جنوری میں بھی 5 شہری ڈاکوؤں کی فائرنگ سے زندگی کی بازی ہار چکے تھے۔ اس طرح 50 دنوں میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہونے والے شہریوں کی مجموعی تعداد 13 ہو چکی ہے۔