امریکا اور ایران کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کو عالمی منڈی میں آزادانہ تیل فروخت کی اجازت دینے سے متعلق معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
حجاج کرام کے تحفظ کیلئے سعودی عرب کے غیرمعمولی دفاعی انتظامات، مقدس مقامات کی فضائی نگرانی سخت
امریکی خبر ایجنسی AXIOS کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط متوقع ہیں، جس کی مدت ابتدائی طور پر 60 روز ہوگی اور ضرورت پڑنے پر اس میں توسیع بھی کی جا سکے گی۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے عالمی بحری آمدورفت کیلئے کھلا رکھے گا جبکہ بحری راستوں میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹانے پر بھی آمادگی ظاہر کی گئی ہے تاکہ تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق ان 60 دنوں کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے، یورینیم افزودگی کم کرنے اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے سے متعلق مذاکرات بھی جاری رہیں گے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کا بنیادی اصول "کارکردگی کے بدلے ریلیف” ہوگا، یعنی ایران کی جانب سے عملی اقدامات کے جواب میں امریکا مرحلہ وار پابندیاں نرم کرے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بعض پابندیاں نرم کرنے اور ایران کو عالمی مارکیٹ میں آزادانہ تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے، جس سے نہ صرف ایرانی معیشت بلکہ عالمی تیل مارکیٹ کو بھی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران نے ثالث ممالک کے ذریعے امریکا کو زبانی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور حساس جوہری مواد سے متعلق رعایتوں پر آمادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے سے متعلق نکات بھی شامل ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان اس سفارتی عمل میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں اہم ملاقاتیں کرکے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں حصہ لیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ باقی معاملات آئندہ چند گھنٹوں میں طے پانے کی امید ہے اور معاہدے کا باضابطہ اعلان آج اتوار کو کیا جا سکتا ہے۔
