Site icon Tashakur News

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی گندم ذخائر و قیمتوں پر ہنگامی ہدایات

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت گندم ذخائر اور خریداری سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبے میں گندم کی صورتحال، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں کے استحکام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں واضح کیا گیا کہ گندم ذخائر میں کمی کو پورا کرنے اور مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو سخت نگرانی کی ہدایت جاری کی۔


گندم ذخائر اور مارکیٹ صورتحال کا جائزہ

اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے میں نجی شعبے کے پاس بڑی مقدار میں گندم ذخائر موجود ہیں۔ تاہم سرکاری خریداری کا ہدف ابھی مکمل نہیں ہوا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عوام کو مصنوعی قلت اور قیمتوں میں ہیرا پھیری سے بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ریئل ٹائم مانیٹرنگ کا نظام مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دی۔


سید مراد علی شاہ کی گندم ذخائر ہدایت

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ گندم ذخائر میں کمی ہر صورت پوری کی جائے گی۔ انہوں نے پاسکو سے گندم خریدنے کی منظوری پر غور اور اقدامات تیز کرنے کی ہدایت دی۔

انہوں نے کہا کہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام پر بھی سخت نگرانی رکھی جائے گی۔


محکمہ خوراک کی گندم ذخائر بریفنگ

اجلاس میں محکمہ خوراک نے بتایا کہ گندم خریداری کا عمل یکم اپریل 2026 سے جاری ہے۔ اب تک محدود مقدار میں خریداری مکمل کی گئی ہے جبکہ ہدف ابھی باقی ہے۔

حکام کے مطابق صوبے بھر میں مختلف اضلاع میں گندم ذخائر موجود ہیں جن میں کراچی، سکھر، لاڑکانہ اور حیدرآباد شامل ہیں۔ ان ذخائر کی تفصیلات اجلاس میں پیش کی گئیں۔


پاسکو سے گندم ذخائر کی خریداری

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمی کو پورا کرنے کے لیے پاسکو سے اضافی گندم حاصل کی جائے گی۔ اس اقدام سے مجموعی گندم ذخائر میں اضافہ ہوگا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گندم کے وافر ذخائر اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام کے لیے ہنگامی اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو فوری عملدرآمد کی ہدایت دی۔


گندم ذخائر اور عوامی مفادات کا تحفظ

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف گندم ذخائر بڑھانا نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دینا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکاروں اور صارفین دونوں کے مفادات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے سخت مانیٹرنگ جاری رکھی جائے گی۔

Exit mobile version