Site icon Tashakur News

مصطفیٰ کمال نے بلدیہ ٹاؤن کیس کو نظریے کی جیت قرار دے دیا

بلدیہ ٹاؤن کیس کے فیصلے پر ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں اسے اپنے نظریے کی جیت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ کئی سال بعد سامنے آیا اور حقائق وقت کے ساتھ واضح ہوئے۔

یہ بلدیہ ٹاؤن کیس ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ابتدا سے ہی ان کا مؤقف یہی تھا کہ اصل حقیقت وقت کے ساتھ سامنے آئے گی۔

مصطفیٰ کمال پریس کانفرنس بیان

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں ایم کیو ایم اور اس کے کارکنوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ تاہم بعد میں مختلف فیصلوں اور بیانات سے صورتحال مختلف سمت میں گئی۔

انہوں نے کہا کہ وہ پہلے دن سے یہ مؤقف رکھتے تھے کہ وقت آنے پر سچ سامنے آئے گا۔ ان کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملا ہے۔

مزید برآں انہوں نے شہدا کے اہل خانہ کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

ایم کیو ایم قیادت پر تنقید

مصطفیٰ کمال نے اپنی گفتگو میں ایم کیو ایم کی قیادت پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بعض فیصلوں اور قیادت کے کردار سے اختلاف کرتے ہوئے پارٹی سے علیحدگی اختیار کی۔

انہوں نے کہا کہ جب انہیں محسوس ہوا کہ قیادت عوامی توقعات پر پوری نہیں اتر رہی تو انہوں نے بغاوت کا راستہ اختیار کیا۔

اسی دوران انہوں نے پارٹی کے اندرونی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے۔

بلدیہ ٹاؤن کیس اور سیاسی مؤقف

مصطفیٰ کمال کے مطابق سیاسی جماعتوں کو عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیادت کا کردار مضبوط نہ ہو تو عوامی مقدمہ کمزور ہو جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات سیاسی فیصلے دیر سے سامنے آتے ہیں، لیکن حقیقت وقت کے ساتھ واضح ہو جاتی ہے۔

ان کے مطابق بلدیہ ٹاؤن کیس کا فیصلہ ان کے مؤقف کی تائید کرتا ہے۔

Exit mobile version