وفاقی بجٹ میں آئندہ مالی سال کے لیے بڑے اور ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ حکومت نے انفراسٹرکچر، توانائی، ٹرانسپورٹ اور عوامی سہولتوں کے شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کیے ہیں۔
شہباز شریف کی کراچی اور حیدرآباد کے ترقیاتی پیکج کی منظوری
بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی بجٹ میں قومی رابطوں اور معاشی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لیے کئی اہم منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔
وفاقی بجٹ اور شاہراہی منصوبے
بجٹ دستاویز کے مطابق این 25 کوئٹہ منصوبے کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اسی طرح سکھر حیدرآباد موٹروے کے لیے 30 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سندھ کوسٹل ہائی وے کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ مہران ہائی وے کے لیے 21 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
کراچی بلک واٹر سپلائی منصوبے کے لیے بھی 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وفاقی بجٹ اور ریلوے منصوبے
حکومت نے ایم ایل ون ریلوے منصوبے کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد ریلوے انفراسٹرکچر میں بہتری اور نقل و حمل کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
وفاقی بجٹ اور توانائی منصوبے
توانائی کے شعبے میں مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 26 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اسی طرح داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 21 ارب روپے رکھے گئے ہیں تاکہ بجلی کی پیداوار اور توانائی کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔
وفاقی بجٹ اور سماجی شعبہ
بجٹ میں دانش اسکولز کی تعمیر کے لیے 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام کے لیے 3 ارب روپے رکھے گئے ہیں تاکہ صحت کی سہولتوں کی فراہمی جاری رکھی جا سکے۔

