Site icon Tashakur News

اکنامک سروے 27-2026: پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد، چار سال کی بلند ترین سطح

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان اکنامک سروے 27-2026 پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعدد داخلی و عالمی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے رواں مالی سال 3.7 فیصد شرح نمو حاصل کی، جو گزشتہ چار برس کی بلند ترین سطح ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی غیر یقینی صورتحال، سیلاب، عالمی تجارتی دباؤ، علاقائی کشیدگی اور دیگر غیر متوقع عوامل نے معیشت پر اثر ڈالا، تاہم حکومت نے اہم معاشی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی کوشش کی۔

محمد اورنگزیب کے مطابق حکومت اور معاشی حلقوں کی توقع تھی کہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح 4 فیصد سے تجاوز کرے گی، تاہم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نے معاشی منظرنامے کو متاثر کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت نہ صرف حجم کے اعتبار سے اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچی بلکہ بحالی کا عمل بھی مختلف شعبوں میں دیکھا گیا۔ فی کس آمدن 1,901 ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ زرعی شعبے میں 2.9 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔

وزیر خزانہ کے مطابق مینوفیکچرنگ کے 22 میں سے 16 شعبوں میں ترقی دیکھی گئی جبکہ بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (LSM) کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی، جو چار سال کی بلند ترین سطح قرار دی گئی۔ خدمات کے شعبے نے بھی گزشتہ چار برس کی بہترین کارکردگی دکھائی۔

مالیاتی اشاریوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک محدود رہا جبکہ پرائمری بیلنس سرپلس میں برقرار رہا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی محصولات میں 10.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ 72 ملین ڈالر سرپلس میں رہا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ترسیلات زر نے معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق فری لانس برآمدات 900 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں جبکہ آئی ٹی برآمدات 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے اوپر ہیں اور توقع ہے جون کے اختتام تک یہ 18 ارب ڈالر سے بڑھ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیار کردہ فٹ بال آئندہ فیفا ورلڈ کپ میں استعمال کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ رواں سال ایکویٹی مارکیٹ میں ایک لاکھ 75 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے جبکہ گزشتہ 20 برس میں پہلی مرتبہ 11 ابتدائی عوامی پیشکشیں (IPOs) مکمل ہوئیں۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اگرچہ بعض کمپنیوں کے ملک چھوڑنے کا تاثر موجود ہے، تاہم متعدد عالمی اداروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان اب تک برآمدات پر مبنی معیشت قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر بھیجتے ہیں جبکہ ملکی برآمدات اسی سطح کے قریب ہیں، جس سے معیشت میں ساختی مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے پالیسی تسلسل ناگزیر ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے سیاسی و معاشی استحکام ضروری ہوگا۔

Exit mobile version