Site icon Tashakur News

مصطفیٰ کمال: صحت کا نظام قومی سلامتی کا معاملہ ہے، تھیلیسیمیا اسکریننگ لازمی بنانے کا اعلان

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ہیلتھ کیئر کا نظام اب محض طبی شعبہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔
Thursday, 11th June 20226

اسلام آباد میں جینوم پروفائل سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی اور معیاری طبی نظام کی طرف بڑھنا ہوگا۔ ان کے مطابق ملک میں کوئی بڑی وبا نہیں پھیلی ہوئی، تاہم اسپتالوں میں موجود صورتحال تشویشناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحت کا موجودہ نظام دراصل بیماری پر مبنی نظام ہے جس میں اسپتال مریضوں سے بھرے رہتے ہیں۔ سالانہ بیماریوں پر 200 سے 300 ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں جبکہ شہری مہنگے ٹیسٹ کرانے پر مجبور ہیں۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ملک کو جدید لیبارٹریز اور تحقیقاتی نظام کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ایک نیوکلیئر طاقت ہے، اس کے باوجود صحت کے شعبے میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا کہ حکومت اسکریننگ سینٹرز قائم کر رہی ہے اور مستقبل میں شادی سے قبل تھیلیسیمیا اسکریننگ کو لازمی قرار دینے کی سمت پیش رفت کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان 2030 تک دنیا کی چوتھی بڑی آبادی والا ملک بن سکتا ہے، جبکہ معاشی دباؤ اور وسائل کی کمی کے باعث برین ڈرین ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

Exit mobile version