Site icon Tashakur News

سندھ میں گندم و آٹے پر اجلاس، قلت کی تردید اور کارروائی کا اعلان

کراچی: وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزمان کی زیر صدارت گندم اور آٹے کی قیمتوں اور دستیابی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں موجودہ صورتحال، اسٹاک پوزیشن اور مارکیٹ رجحانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں سیکریٹری خوراک، ڈائریکٹر فوڈ، پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ زون کے چیئرمین و وائس چیئرمین سمیت متعلقہ افسران اور نمائندگان نے شرکت کی۔

وزیر خوراک سندھ نے کہا کہ صوبے میں گندم کی کوئی قلت یا شارٹ فال موجود نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور کرنے والوں کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیر خوراک کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے گندم کے ذخائر اور اسٹاک پوزیشن کی مکمل رپورٹ طلب کر لی ہے جو جلد پیش کی جائے گی۔

مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ سندھ حکومت عوام کو سستا، معیاری اور وافر آٹا فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری ہیں۔

چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ زون جنید عزیز نے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ گندم کی آزادانہ نقل و حرکت کے دوران مارکیٹ میں قیمتیں مستحکم رہیں، تاہم بعض پابندیوں کے بعد قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گندم کی نقل و حرکت پر پابندیاں آئین کے آرٹیکل 155 کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں، جس کے باعث ملک بھر کی مارکیٹ میں عدم توازن پیدا ہوا۔ ان کے مطابق ان پابندیوں کے اثرات پورے ملک میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

جنید عزیز نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کے اقدامات کسانوں، آبادگاروں اور کاروباری طبقے کے مفاد میں ہیں جبکہ گندم کے شعبے میں شفافیت کے لیے کسانوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

وزیر خوراک سندھ نے کہا کہ حکومت ہر قیمت پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی بلا تعطل جاری رہے گی۔

Exit mobile version