لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب Lieutenant General (R) Nazir Ahmed نے کہا ہے کہ وہ محض علامتی مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق عوام کو فراڈ اور دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے سخت اور مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کو وہ مقام نہیں دیا گیا جو ان کا حق ہے۔ ان کے مطابق مختلف بزنس چیمبرز اور فورمز سے موصول ہونے والے 20 میں سے 19 کیسز کو نمٹا دیا گیا ہے۔
چیئرمین نیب نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں جائیداد کے لین دین میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے جامع نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جائیداد کی ٹرانزیکشن تین فریقوں کے درمیان ہوگی جبکہ نقد لین دین کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر پلاٹ کو بارکوڈ سسٹم کے تحت رجسٹر کیا جائے گا تاکہ فائلوں کے ذریعے ہونے والی جعلسازی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں تمام منظوریوں کو ایک ہی چھت کے نیچے لانے کی بھی تجویز زیر غور ہے، جبکہ نیب کا ایک نمائندہ ریگولیٹری بورڈ کا حصہ ہوگا۔
چیئرمین نیب کے مطابق ادارے نے گزشتہ تین برسوں میں ریکارڈ ریکوری کی ہے، جس کا حجم تقریباً 15 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ 1999 سے 2023 کے دوران مجموعی ریکوری 880 ارب روپے رہی۔
انہوں نے کہا کہ دھوکہ دہی اور فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانون نافذ کیا جائے گا اور انہیں قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ ان کے مطابق ایسے عناصر کے خلاف کارروائی مزید تیز کی جائے گی تاکہ معاشی نظام میں شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔

