جرمن میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت نے جرمنی سے افغان شہریوں کی واپسی کے معاملے میں تعاون سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث افغان شہریوں کو واپس لے جانے کے لیے طے شدہ پرواز منسوخ کر دی گئی۔
اوکاڑہ ساہیوال سوشل میڈیا جنگ، میمز نے دھوم مچادی
جرمن خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق پرواز کو بعد میں دوبارہ شیڈول کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم نئی تاریخ کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی ترجیح جرمنی میں موجود افغان سفارتی مشنز کا کنٹرول حاصل کرنا اور وہاں اپنے نمائندوں کی تعیناتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر پیش رفت نہ ہونے کے باعث واپسی کے انتظامات متاثر ہوئے۔
یاد رہے کہ اگست 2024 میں قطر کی ثالثی سے 28 افغان شہریوں کو جرمنی سے کابل واپس بھیجا گیا تھا، جو اس نوعیت کی پہلی کارروائی تھی۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت اپنے شہریوں کی واپسی جیسے معاملات کو سفارتی اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ رویہ عالمی برادری کے ساتھ تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
تاحال طالبان حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

