وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں 2 ہزار ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ متعدد منصوبے تکمیل کے قریب ہیں
جبکہ کچھ ابتدائی مراحل میں ہیں۔
واٹر کارپوریشن میں کرپشن پر ایم کیوایم برہم
انہوں نے یہ بات کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں سرکاری حکام، صنعتکار اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔
ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ کراچی میں تقریباً 140 چھوٹی اور بڑی سڑکوں پر ترقیاتی کام جاری ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے صنعتکاروں کے لیے 9 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے ہیں۔ ان میں سے 2 ارب روپے کورنگی صنعتی علاقے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کورنگی انڈسٹریل ایریا کو پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کراچی کو 200 کلومیٹر دور سے پانی فراہم کیا جاتا ہے، جو ایک بڑا چیلنج ہے۔
وزیر بلدیات کے مطابق پمپنگ اسٹیشن (PS-2) کے حوالے سے کاٹی کی تجاویز پر عملدرآمد جاری ہے۔ سالڈ ویسٹ کے لیے جدید جی ٹی ایس سائٹ بھی تیار کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے عالمی اداروں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ یلو لائن منصوبے کے بعض پہلوؤں پر حکومت کو تحفظات بھی ہیں۔
ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ مہران ٹاؤن کے معاملے پر ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ کمیٹی صنعتی علاقے کا درجہ دینے سے متعلق سفارشات مرتب کرے گی۔
کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت نے سندھ حکومت کے ترقیاتی اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ بھٹو اور دیگر منصوبے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیں گے۔
انہوں نے صنعتی علاقوں میں پانی کی قلت کو اہم مسئلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتوں کو مستقل بنیادوں پر پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
تقریب میں صنعتکاروں نے سیوریج، نکاسی آب، ڈمپنگ سائٹ اور یلو لائن منصوبے سے متعلق تجاویز بھی پیش کیں۔

