Tashakur News

سی پی ایس پی وفد کا این آئی سی وی ڈی دورہ

قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کراچی نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (سی پی ایس پی) کے اعلیٰ سطحی وفد کی میزبانی کی۔ وفد کی قیادت سی پی ایس پی کے صدر پروفیسر خالد مسعود گوندل نے کی۔
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی کا اعلان

این آئی سی وی ڈی کی خدمات پر بریفنگ

ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر نے وفد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر ادارے کی سینئر انتظامیہ اور فیکلٹی اراکین بھی موجود تھے۔

انہوں نے این آئی سی وی ڈی کے مفت علاج کے نیٹ ورک پر تفصیلی بریفنگ دی۔ مزید برآں جدید طبی سہولیات، طبی تعلیم اور تحقیق کے شعبوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

جدید کارڈیک سہولیات کا جائزہ

وفد کو انٹروینشنل کارڈیالوجی اور کارڈیک سرجری کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ پیڈیاٹرک کارڈیالوجی اور ایمرجنسی کارڈیک کیئر کی خدمات بھی پیش کی گئیں۔

مزید یہ کہ سیٹلائٹ سینٹرز کے ذریعے مفت علاج کی فراہمی سے متعلق معلومات بھی فراہم کی گئیں۔

سی پی ایس پی کی جانب سے خراجِ تحسین

پروفیسر خالد مسعود گوندل نے این آئی سی وی ڈی کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے ادارے کو امراضِ قلب کے علاج میں مثالی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی لاکھوں مریضوں کو مفت علاج فراہم کر رہا ہے۔ اسی طرح یہ ادارہ طبی تعلیم میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

حکومت سندھ کے کردار کی تعریف

پروفیسر خالد مسعود گوندل اور پروفیسر محمد شعیب شافی نے حکومت سندھ کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی مسلسل سرپرستی سے این آئی سی وی ڈی کو وسعت ملی ہے۔ نتیجتاً مزید مریضوں تک معیاری طبی سہولیات پہنچ رہی ہیں۔

یادگاری تحائف کا تبادلہ

روایتی سندھی مہمان نوازی کے تحت مہمانوں کو اجرک اور سندھی ٹوپی پیش کی گئی۔

بعد ازاں پروفیسر خالد مسعود گوندل نے پروفیسر طاہر صغیر کو یادگاری شیلڈ بھی دی۔

تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار

وفد نے این آئی سی وی ڈی کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا۔ اس دوران جدید انفراسٹرکچر اور تربیتی پروگرامز کا جائزہ لیا گیا۔

آخر میں دونوں اداروں نے تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ طبی تعلیم، تحقیق اور مریضوں کی نگہداشت کو بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

میٹا ڈسکرپشن

سی پی ایس پی وفد نے این آئی سی وی ڈی کراچی کا دورہ کیا، مفت امراضِ قلب کی خدمات، طبی تعلیم اور حکومت سندھ کے تعاون کو سراہا گیا۔

Exit mobile version