Site icon Tashakur News

ترکیہ پاکستان تعلقات پر بھارت کی بے چینی ظاہر

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے پاکستان اور ترکیہ کے مضبوط تعلقات پر بھارتی ردعمل کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو دوسرے ملک کے خلاف دشمنی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

ابراہیم حیدری میں گٹکا ماوا فیکٹری پر چھاپہ

سنگاپور میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ترکیہ کے قریبی، برادرانہ اور تاریخی تعلقات ہیں، جو صرف دوطرفہ تعاون پر مبنی ہیں اور کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں۔

ہاکان فیدان کے مطابق ترکیہ واحد ملک نہیں جس کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اس لیے اگر بھارت دیگر ممالک کی پاکستان کے ساتھ دوستی کو اپنے خلاف سمجھتا ہے تو یہ درست سفارتی رویہ نہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق Hindustan Times نے بھی ترک وزیر خارجہ کے ان بیانات کو نمایاں کیا ہے، جن میں انہوں نے کہا کہ عالمی تعلقات آزاد خودمختار فیصلوں پر مبنی ہوتے ہیں اور انہیں کسی دوسرے ملک کے زاویے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دہائیوں پر محیط سیاسی، سفارتی اور دفاعی تعلقات موجود ہیں، جبکہ مسئلہ کشمیر پر بھی ترکیہ پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ترک وزیر خارجہ کا بیان بھارت کی اس پالیسی کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے جس کے تحت وہ پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والے ممالک پر تنقید کرتا رہا ہے، جبکہ جدید سفارت کاری میں باہمی احترام اور غیر مداخلت بنیادی اصول تصور کیے جاتے ہیں۔

Exit mobile version