کراچی: پاک انٹرنیشنل بزنس فورم (پی آئی بی ایف) کراچی کے صدر سہیل عزیز نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے حکومت کو متعدد تجاویز پیش کرتے ہوئے عوامی ریلیف اور معاشی استحکام کے لیے انقلابی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ابرار احمد آئی سی سی رینکنگ میں چوتھے
پی آئی بی ایف کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے اراکین سے مشاورت کے بعد جاری بیان میں سہیل عزیز نے تجویز دی کہ پیٹرول کی قیمت آئندہ تین سال کے لیے 250 روپے فی لیٹر مقرر کرکے منجمد کی جائے تاکہ کاروباری طبقے کو پائیدار اور قابلِ پیشگوئی ماحول میسر آسکے اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی ضروریات کی اشیا کی پیداواری لاگت میں کمی لائی جائے اور ان کی قیمتوں میں بھی طویل المدتی استحکام پیدا کیا جائے تاکہ عوام اپنے گھریلو اخراجات بہتر انداز میں ترتیب دے سکیں۔
سہیل عزیز کا کہنا تھا کہ حکومت اگر واقعی ملک کو معاشی بحران سے نکالنا چاہتی ہے تو اسے غیر معمولی اور جرات مندانہ فیصلے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پر انحصار ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے اور معاشی خودمختاری کی جانب پیش رفت کرے۔
انہوں نے ٹیکس نظام میں جامع اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی کارکردگی کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، نظام کو زیادہ شفاف اور خودکار بنایا جائے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق عام شہریوں پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پی آئی بی ایف کے صدر نے کہا کہ خسارے سے پاک بجٹ کی تیاری کے لیے تاجر برادری، برآمدکنندگان اور سرمایہ کاروں کو اعتماد میں لیا جائے اور ان کی مشاورت سے اقتصادی پالیسی مرتب کی جائے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں استحکام لایا جائے، مقامی صنعتوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کی سرپرستی کی جائے، برآمدکنندگان کو سہولتیں فراہم کی جائیں اور غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
سہیل عزیز نے زرعی شعبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مقامی زرعی اجناس کے فروغ، کسانوں کے تحفظ اور زرعی ترقیاتی اداروں کی فعالیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔
انہوں نے حکومتی اخراجات میں کمی، غیر ضروری مراعات کے خاتمے اور اداروں کی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومتی وسائل کا مؤثر استعمال اور شفاف طرزِ حکمرانی اپنائی جائے تو ملک کو معاشی استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

