کراچی میں محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ 2016 کے بعد ایک بار پھر ایل نینو سرگرم ہو رہا ہے، جس کے باعث پاکستان میں معمول سے کم بارشوں کا امکان ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا بجٹ میں ریلیف اعلان
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بالائی علاقوں میں 5 جون تک آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہوسکتی ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کے سلسلے کے باعث گزشتہ رات سندھ کے مختلف علاقوں میں بارش ریکارڈ کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق موئن جو دڑو میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 32 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ مورو اور روہڑی میں 20 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران 104 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں بھی چلیں۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ سسٹم کے زیر اثر خیرپور، دادو، گھوٹکی، تھرپارکر اور ملحقہ اضلاع میں مزید بارش کا امکان برقرار رہے گا۔
کراچی کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ شہر میں آئندہ دنوں کے دوران موسم گرم اور مرطوب رہے گا اور درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بحرالکاہل میں ایل نینو کے اثرات دنیا بھر کے موسموں پر پڑتے ہیں۔ اس موسمی تبدیلی کے دوران پاکستان سمیت خطے میں بارشیں کم ہونے اور بعض علاقوں میں خشک سالی کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے مزید کہا کہ تھرپارکر سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں رواں مون سون کے دوران معمول سے کم بارشوں کا امکان ہے، جبکہ شمالی علاقوں میں مغربی ہواؤں کے سلسلے بارشوں کا سبب بنتے رہیں گے۔
ایل نینو ایک قدرتی موسمی رجحان ہے جو بحرالکاہل کے سطح سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں موسم شدید تبدیلیوں کا شکار ہو سکتا ہے، جس میں کہیں خشک سالی اور کہیں زیادہ بارشیں شامل ہیں۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس لیے بارشوں میں کمی سے زراعت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

